نئی دہلی میں راجیہ سبھا کے مون سون اجلاس کے دوران سینئر اداکارہ اور سماج وادی پارٹی کی رکن، جیا بچن نے "آپریشن سندور” کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔ ان کے خطاب نے ایوان میں ایک جذباتی فضا پیدا کر دی۔
جیا بچن نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے فوجی آپریشن کو "سندور” جیسے جذباتی اور ثقافتی علامت سے کیوں جوڑا گیا، جس کے نتیجے میں کئی خواتین کے سروں سے واقعی سندور مٹ گیا — ان سپاہیوں کی بیویاں، جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
انہوں نے کہا، "یہ نام صرف علامت نہیں، ایک طنز ہے اُن عورتوں پر جنہوں نے اپنے شوہروں کو کھو دیا۔”
جیا بچن نے حکومتی بینچ سے مداخلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "جب دوسرے بولتے ہیں تو انہیں بھی خاموشی سے سنا جاتا ہے، مجھے بھی بات مکمل کرنے دیں۔ براہ کرم مجھے کنٹرول نہ کریں۔”
شیو سینا کی رکن پریانکا چترویدی، جو ان کے قریب بیٹھی تھیں، اُن کی باتوں پر مسکراتی رہیں۔ سوشل میڈیا پر اس خطاب کی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے، اور بھارت میں سیاسی، سماجی اور عسکری اصطلاحات کے انتخاب پر نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔









