• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home چائنہ کی خبریں
جمہوریت

جمہوریت کا کوئی طےشدہ ماڈل نہیں ہے، چینی میڈ یا

News Editor by News Editor
مئی 31, 2023
in چائنہ کی خبریں
0 0
0

بیجنگ (انٹرنیشنل نیوز)سنگاپور کے نائب وزیر اعظم لارنس وونگ نے 28 ویں نکی فورم "ایشیا کا مستقبل” سے خطاب میں کہا کہ سنگاپور دوسرے ممالک کے جمہوری ماڈل کی اندھا دھند نقل نہیں کرتا۔

تمام ممالک کےاپنے اپنے ثقافتی و تاریخی ورثے اور اپنی حکمرانی اور سیاست کے نظام ہیں، جن کا احترام کیا جانا چاہیئے۔ دنیا کو آسانی سے جمہوریت یا آمریت کے بائنری لیبل میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اور مزید اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے یکسوئی سے

تعاون و ترقی کی جستجو کرنی چاہیے۔جمہوریت کے حوالےسے سنگاپور کے نائب وزیر اعظم کی وضاحت نے نہ صرف بہت سے ممالک کی آواز کو توانا کیا ہے بلکہ جمہوریت کے حقیقی معنی کو بھی ظاہر کیا ہے۔ بد ھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق لفظ "جمہوریت”، جو قدیم یونانی زبان سے اخذ کیا گیا ہے، اس کا اصل مطلب ہے "عوام کی حکمرانی” اور "حاکمیت عوام کے لیے”۔ سیاسی نظام کی ایک شکل کے طور پر ، جمہوریت کی تاریخ2500 سال سے زیادہ پرانی ہے ، جس میں قدیم ایتھنز میں شہریوں کی براہ راست جمہوری حکومت سے لے کرنمائندگی کے نظام پر مبنی جدید حکومت تک بہت سی شکلوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

مختلف ممالک میں جمہوری نظام کا قیام اور جمہوری عمل کی ترقی کا اپنا تاریخی اور قومی کردار ہے اور ان کی اپنی منفرد اقدار ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ جمہوریت بھی ترقی کرتی ہے۔ اگر جمہوری نظام وقت اور قومی حالات کے تقاضوں کو برقرار نہ رکھ سکا تو یہ اپنے وجود کی سماجی بنیاد کھو دے گا۔ لہٰذا سماجی بنیادوں اور ثقافتی روایات سے الگ تھلگ ہوکر جمہوری نظام کی اچھائی اور برائی کا موازنہ کرنا نہ تو معقول ہے اور نہ ہی معنی خیز۔

چین اور امریکہ کو مثال کے طور پر دیکھیں۔ امریکہ میں جمہوریت کا تعلق اپنے قیام کے آغاز میں امریکی معاشرے میں قائدانہ جذبے، مساوات کے شعور اور قانون کی حکمرانی پر یقین سے ہے۔ لیکن دو سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد، آج امریکی معاشرے میں عدم مساوات، سرمایہ دارانہ اجارہ داری، سیاسی پولرائزیشن، اور نسلی اختلافات عروج پر ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل درینہ ہیں اور ان کی جڑیں بہت زیادہ گہری ہیں ، جس کے باعث زیادہ تر امریکیوں نےخود امریکی جمہوریت پر اعتماد کھو دیا ہے. پیو سروے کے مطابق 57 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ امریکہ اب جمہوریت کا نمونہ نہیں رہا۔ کوئنیپیاک یونیورسٹی کے ایک سروے میں 67 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ امریکی جمہوریت کو خاتمے کا خطرہ ہے۔

جبکہ ہزاروں سال کی زرعی تہذیب کا تجربہ کرنے والے چین میں انفرادیت کی بجائے اجتماعیت اور معاشرتی ذمہ داری پر زور چینی روایت اور ثقافت کا ایک حصہ بن چکا ہے۔بالخصوص اصلاحات اور کھلے پن کے گزشتہ چالیس سال سے زائد عرصے میں چین کی عظیم ترقیاتی کامیابیوں کی بدولت دور حاضر کے چینی معاشرے میں سماجی مفادات کا تنوع پایا گیا، عوامی معاملات میں سماجی شرکت میں بتدریج اضافہ ہوا اور حکومت پر رائے عامہ کی نگرانی مسلسل مضبوط ہوتی گئ ہے، جو چین کی "ہمہ گیر عمل کی عوامی جمہوریت” کی سماجی بنیاد اور ادارہ جاتی جدت طرازی کی محرک قوت بھی ہے۔ ظاہر ہےکہ چین اور امریکہ کی جمہوریت میں مختلف تاریخی اور ثقافتی جینز ہیں.
تو کس طرح کی جمہوریت حقیقی جمہوریت اور اچھی جمہوریت ہے؟

چونکہ جمہوریت کا اصل مطلب "عوام کی حکمرانی” ہے، اس لئے جمہوریت کی اچھائی یا برائی کے حوالے سے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا جمہوری نظام "عوام کو مالک بننے ” دےگا کہ نہیں۔ دوسری بات یہ کہ چونکہ "عوام مالک ہیں” لہذا، جمہوریت پر عوام کی رائے اہم ہے ۔ لہذا "کیا عوام حکومت پر اعتماد کرتے ہیں” اور "کیا عوام مطمئن ہیں” جمہوریت جانچنے کے دو اہم معیارات ہیں۔ ایک اور کلیدی معیار بھی ہے جو جمہوریت کی تاثیر ہے۔ جمہوریت کوئی "گلدان” نہیں ہے، یہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ہے جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہے اور یہ جمہوریت کا بنیادی مقصد ہے.

مندرجہ بالا تین نکات کی بنیاد پر یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ جب تک جمہوریت ملک کے قومی حالات کے مطابق اور عوام کے مفادات کی نمائندگی کر سکتی ہے، یہ "حقیقی جمہوریت” اور "اچھی جمہوریت” ہے۔ سنگاپور میں موثر حکمرانی سنگاپور کے قومی حالات پر مبنی ہے جیسا کہ چین کرتا ہے۔ اس حوالے سے عالمی شہرت یافتہ امریکی کمپنی ایڈلمین انٹرنیشنل کی جانب سے اپریل 2023 میں جاری ہونے والی تازہ ترین سروے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ چینی شہریوں کا حکومت پر اعتماد 89 فیصد تک ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی شہری اپنی حکومت پر چین کے مقابلے میں 47 فیصدی پوائنٹس کم اعتماد کرتے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی شہرت یافتہ پولنگ ایجنسی ایپسوس گروپ کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ہیپی نیس انڈیکس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور امریکہ سمیت 32 ممالک میں سب سے زیادہ خوشی کا انڈیکس رکھنے والا ملک چین ہے(91 فیصد)۔

چین اور سنگاپور میں جمہوریت کا کامیاب عمل ثابت کرتا ہے کہ کسی ملک کے قومی حالات کے مطابق تخصیص شدہ جمہوریت مؤثر ہے ، اور یہ کہ امریکی طرز کی جمہوریت انسانی جمہوریت کی واحد اور مکمل شکل نہیں ہے۔ "ایک شخص، ایک ووٹ” اور "سیاسی جماعتوں کی گردش” جمہوری عمل کی صرف بیرونی شکلیں ہیں، اور ان کی تاثیر کو عملی طور پر جانچنے کی ضرورت ہے.

بعض مغربی ممالک کے لوگ صرف اس وقت پسند کیے جاتے ہیں جب وہ ووٹ دیتے ہیں، اور ووٹ ڈالنے کے بعد انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ لوگ صرف انتخابی مہم کے دوران پرکشش نعرے سنتے ہیں جبکہ الیکشن کے بعد ان کی بات کوئی نہیں سنتا ۔ اس کے برعکس ، "قابل عمل اور کارآمد” چینی طرز کی جمہوریت کی نمایاں برتری ہے۔

جمہوریت کے مختلف راستے اور شکلیں، انسانی سیاسی تہذیب کی ترقی کا فطری نتیجہ ہیں۔ سیاسی نظام کا کوئی ایسا ماڈل نہیں ہے جو دنیا کے تمام ممالک پر لاگو ہوتا ہے ، اور جمہوریت کا کوئی طے شدہ ماڈل نہیں ہے۔ دنیا رنگا رنگ ہے اور جمہوریت متنوع ہے۔ جمہوریت کا ایک ہی ماڈل مسلط کرنا، یا یہاں تک کہ آمریت کے خلاف نام نہاد جمہوریت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، اور دوسرے ممالک کو "مطلق العنان” قرار دینا بذات خود انتہائی غیر جمہوری ہے۔”جوتے فٹ ہیں یا نہیں،صرف پہن کر پتہ چل سکتا ہے ” یہی "جمہوریت” کا اصل معنی اور صحیح منطق ہے۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: اختلافاتجمہوریتسیاسی تہذیب
Previous Post

پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کا امکان

Next Post

قا ئد اعظم کے تصورات نے پاکستان کی سائنسی ترقی کی سمت متعین کی، چینی میڈ یا

News Editor

News Editor

Next Post

قا ئد اعظم کے تصورات نے پاکستان کی سائنسی ترقی کی سمت متعین کی، چینی میڈ یا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading