اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)جماعت اسلامی پاکستان نے بجٹ کو سودی قراردیتے ہوئے مسترد کردیا۔جماعت اسلامی کے رہنما و رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا ہے کہ بجٹ میں ایک خوشی کی جھلک ہے کہ ملازمین کی تنخواہ میں 30سے 35فیصد اضافہ ہے۔
پنشن میں 17.5فیصد اضافہ کیا گیا ہے یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ آج 12ہزار میں بجلی کا بل ادا نہیں ہوتا ہے غریب پنشنر 12ہزار میں کیسا گزارا کرئے گا۔ لوگوں کے پاس آج کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ بحث میں حصہ لینے ہوئے کیا قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں رکن اسمبلی رہنما جماعت اسلامی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ موجودہ بجٹ سودی ہے سو فیصد سود بجٹ میں شامل ہے۔
اس سودی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں کہ یہ بجٹ سودی نظام ہر مشتمل ہے ، سودی نظام اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے مترادف ہے۔ جب تک اس ملک کو سودی نظام سے پاک نہیں کیا جاتا یہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا ہے بجٹ 14ہزار ارب ہر مشتمل ہے جس میں سے 50فیصد بجٹ سود پر خرچ ہوگا سودی نظام کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہے۔ہم نے ہر چیز پر ٹیکس لگایا مگر پیسے پورے نہیں ہوئے اور ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے آئی ایم ایف جیت گیا اور پاکستان کی عوام ہار گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہاہے کہ بجٹ آئی ایم ایف کے شرائط پر مکمل عمل کیا ہے یہ بجٹ ہمارا نہیں آئی ایم ایف کا یے۔بجٹ میں ایک خوشی کی جھلک ہے کہ ملازمین کی تنخواہ میں 30سے 35فیصد اضافہ ہے۔پنشن میں 17.5فیصد اضافہ کیا گیا ہے یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ آج کا 12ہزار میں بجلی کا بل ادا نہیں ہوتا ہے غریب پنشنر 12ہزار میں کیسا گزارا کرئے گا۔ لوگوں کے پاس آج کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں۔
مالاکنڈ ڈویژن کو دس سال تک ٹیکس استثنی دیا جائے ، انہوں نے کہاکہ موجودہ بجٹ سودی ہے سو فیصد سود بجٹ میں شامل ہے۔اس سودی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں ، اس ملک کو سودی نظام سے پاک نہیں کیا جاتا یہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا ہے بجٹ 14ہزار ارب ہر مشتمل ہے جس میں سے 50فیصد بجٹ سود پر خرچ ہوگا سودی نظام کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہے۔
ہم نے ہر چیز پر ٹیکس لگایا مگر پیسے پورے نہیں ہوئے اور ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے آئی ایم ایف جیت گیا اور پاکستان کی عوام ہار گئی ہے۔وزیراعظم نے کہاہے کہ بجٹ آئی ایم ایف کے شرائط پر مکمل عمل کیا ہے یہ بجٹ ہمارا نہیں آئی ایم ایف کا یے۔بجٹ میں ایک خوشی کی جھلک ہے کہ ملازمین کی تنخواہ میں 30سے 35فیصد اضافہ ہے۔پنشن میں 17.5فیصد اضافہ کیا گیا ہے یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔
آج کا 12ہزار میں بجلی کا بل ادا نہیں ہوتا ہے غریب پنشنر 12ہزار میں کیسا گزارا کرئے گا۔ لوگوں کے پاس آج کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن کو دس سال تک ٹیکس استثنی دیا جائے۔۔









