تھرپارکر(کامرس ڈیسک) تھر سے حبکو نے تھل نووا پاور منصوبے کے تحت کامیابی کے ساتھ مزید 330 میگاواٹ نیشنل گرڈ سے منسلک کرکے تھرکول سے بجلی کی مجموعی پیداوار تقریبا 3000 میگاواٹ تک لے گئی ہے۔
وزیر مملکت ڈاکٹر مہیش ملانی نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے جن کی نجی پرواز تھر میں خراب موسم کے باعث منسوخ کر دی گئی نے جمعہ کو کنٹرول روم میں بٹن سوئچ کرکے تھل نووا کے 330 میگاواٹ منصوبے کی نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کرکے افتتاح کیا۔ حبکو گروپ کے سی ای او کامران کمال اور سی ای او تھل نووا سلیم اللہ میمن نے وزیر مملکت ڈاکٹر مہیش ملانی کو پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور تھر کول سے بجلی کی پیداوار پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیراعلی نے افتتاحی تقریب سے اپنے پیغام میں کہا کہ مقامی ایندھن کو استعمال کرنے والے تھل نووا جیسے پاور پلانٹس کے اضافے سے پاکستان کا درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تھل نووا نے مقامی افراد کیلئے براہ راست روزگار کے سینکڑوں مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ تھر کے کوئلے کے ذخائر سے 200 سال سے زائد عرصے تک 100000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا تھر کے کوئلے کے استعمال سے پاکستان کی ترقی پر بہت زیادہ اثر پڑے گا جس سے حکومت کو ایندھن کی درآمد پر 6 بلین ڈالر تک کی بچت ہو گی۔ واضح رہے کہ تھل نووا تھر پاور لمیٹڈ تھر کول پر مبنی 330 میگاواٹ کول فائرڈ پاور پروجیکٹ ہے۔ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا حصہ ہے۔ یہ پروجیکٹ حب پاور کمپنی لمیٹڈ (حبکو)، تھل انجینئرنگ لمیٹڈ، نووٹیکس لمیٹڈ، اور چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (CMEC)کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے جو EPCکنٹریکٹر بھی ہے۔ پراجیکٹ نے مارچ 2019 میں تعمیر شروع کی تاکہ مقامی تھر کول کے جلد سے جلد استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
پروجیکٹ کو COVID-19 وبائی امراض کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ پروجیکٹ کو اب نیشنل گرڈ کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ تھل نووا ،تھر بلاک 2 میں سندھ اینگرو کول مائننگ کے فیز 2 سے دیسی کوئلہ استعمال کرے گی اور اس سے تھر کول بلاک 2 سے توانائی کی لاگت 9 روپے فی کلو واٹ فی گھنٹہ ہو جائے گی بمقابلہ درآمد شدہ کوئلہ پلانٹس جس کی لاگت تقریبا 20-30 روپے فی کلو واٹ ہے۔









