کراچی — ملک بھر میں تاجروں کی جانب سے اعلان کردہ پہیہ جام ہڑتال پر حکومت نے سخت ردعمل کے بجائے مفاہمت کا راستہ اپناتے ہوئے بات چیت کی پیشکش کر دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تاجروں کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے تاکہ پالیسیوں پر کھلے دل سے تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
کراچی میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سنجیدہ ہے لیکن اس کا مطلب کاروباری طبقے کو خوفزدہ کرنا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کے جو اضافی اختیارات متعارف کروائے گئے ہیں، وہ صرف اُن افراد پر لاگو ہوں گے جو 5 کروڑ روپے سے زائد سیلز ٹیکس کی چوری میں ملوث ہوں۔
وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ ان اختیارات کے حوالے سے غیر ضروری پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، حالانکہ ان اقدامات کا مقصد صرف ٹیکس فراڈ روکنا ہے، اور انہیں باقاعدہ طور پر پارلیمانی منظوری کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔
مزید برآں، وزیر خزانہ نے بتایا کہ گورنر اسٹیٹ بینک اور تمام بڑے کمرشل بینکوں کے صدور کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے مالیاتی نظام میں بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے بینکوں کے کردار پر گفتگو ہوئی ہے۔ اُن کے مطابق، تنخواہ دار طبقے کو اپنی مالی گنجائش کے مطابق بھرپور ریلیف دیا جا چکا ہے، اور اب نجی شعبے کو قرضوں کے اجراء میں تیزی لائی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ زرعی اور چھوٹے درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے قرضوں میں بہتری آئی ہے اور یہ پالیسی معیشت کو متحرک کرنے میں مدد دے گی۔









