بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مبینہ غیرت کے نام پر میاں بیوی کے قتل کے دل دہلا دینے والے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس بلوچستان کو 22 جولائی کو طلب کر لیا ہے تاکہ واقعے کی تفصیلات اور تفتیش کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کی جا سکے۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دکھایا گیا کہ مرد و خاتون کو سرعام فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ کوئٹہ پولیس نے ویڈیو کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 20 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں مرکزی ملزم بشیر احمد اور ساتکزئی قبیلے کے سردار شیر باز ساتکزئی سمیت ان کے چار بھائی اور دو محافظ شامل ہیں۔
ایف آئی آر انسداد دہشت گردی ایکٹ، دفعہ 302 اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق، فائرنگ کرنے والوں میں جلال اور بشیر شامل ہیں، جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جلال، قتل ہونے والی خاتون کا بھائی ہے۔ مدعی مقدمہ کے مطابق، واقعے کی ویڈیو جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی تاکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، اس واقعے میں مجموعی طور پر 20 سے زائد افراد ملوث ہیں، جن میں سے کئی کو شناخت کر کے گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے کیس کو مزید تفتیش کے لیے سیریس کرائمز انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دیا ہے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق، سردار شیر باز نے ایک جرگے میں فیصلہ سنایا کہ مقتول مرد اور خاتون "کاروکاری” کے مرتکب ہوئے ہیں، جس کے بعد انہیں سنجیدی ڈیگاری مارگٹ کے علاقے میں لے جا کر گولی مار دی گئی۔
گرفتار ملزمان کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔









