کراچی (کامرس ڈیسک)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگی بجلی کی وجہ سے اسکا استعمال بہت کم ہے جس میں مزید کمی آئے گی.
جس سے ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کا عمل متاثر ہو گا۔ بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی وجہ سے اسکا استعمال مزید کم اور چوری میں اضافہ ہو جائے گاجو معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی۔ بجلی کاسارا نظام اشرافیہ کے قبضے میں ہے جسے بہتر بنانے کے لئے مقامی آبادی کی شمولیت ضروری ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں بجلی کے شعبے میں لوکل کمیونٹی کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے جس کے مثبت نتائج نکلے ہیں.
جبکہ پاکستان میں یہ شعبہ سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کے قبضے میں ہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی مسلسل گر رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار، تقسیم، گورننس اور دیگر معاملات میں عوام کی شمولیت ضروری ہو چکی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ 2030 تک پاکستان میں بجلی کی طلب پچیس ہزار میگاواٹ سے بڑھ کر چالیس ہزار میگاواٹ ہو جائے گی جس کے لئے انتظامات کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ ملکی تاریخ میں کبھی بھی بجلی چوری پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دوران 380ارب روپے کی بجلی چوری ہوچکی ہے جو ٹیرف میں اضافے سے 520 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
چوری ہونے والی بجلی میں سے 200ارب روپے کی بجلی کنڈوں اور80ارب میٹرز کے ذریعے چوری کی گئی۔ ملک بھر میں بجلی چوری ہو رہی ہے مگر بنوں مردان اور سکھر اس سلسلے میں پیش پیش ہیں۔ بجلی چوروں میں عام صارفین کے علاوہ ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں جس میں سرکاری اہلکار ملے ہوئے ہیں۔ اب تو بجلی چوری میں مدد کے لئے باقائدہ کاروبار کھل گئے ہیں .
جن کی بڑی ڈیمانڈ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 20 فیصد بجلی چوری ہوجاتی ہے اور 10 فیصد بجلی کے بل ادا نہیں ہوتے یعنی تقریبا سات ہزار میگا واٹ بجلی ہر ماہ سسٹم سے غائب ہو جاتی ہے جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے مگر بجلی چوری کے سدباب کے بجائے سارے نقصانات لائن لاسز کے نام پر صارفین پر تقسیم کر دئیے جاتے ہیں جس سے بجلی مہنگی ہوتی ہے، کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور پاکستانی برآمد کنندگان انٹرنیشنل مارکیٹ میں لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے مقابلے کی سکت سے محروم ہو جاتے ہیں یہ صورتحال سرکاری اہلکاروں کی نا اہلی کا شاخسانہ ہے جسے ایماندار صارفین اور مملکت بھگت رہے ہیں۔









