• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home پاکستان

بازارحسن کی شہزادی سے ملاقات (پارٹ 1) تحریر:سمیع احمد کلیا

ہیرا منڈی کا اولین نام شاہی محلہ تھا۔ اسے بعد میں ہیرا منڈی، بازارِ حسن اور ریڈ لائٹ سٹریٹ کے نام سے یاد کیا جانے لگا

News Editor by News Editor
اپریل 22, 2020
in پاکستان, تبصرہ / تجزیہ, کرائم اینڈ کورٹس, ہماری خبر
0 0
0

تحریر: سمیع احمد کلیا

بازار حسن کی تنگ گلیوں میں ابھی دن کا آغاز ہوا ہے۔ جہاں باقی دنیا سو رہی ہے وہیں ہیرا منڈی میں دکانیں سجائی جا رہی ہیں۔ فضا میں پھیلتی دھیمی دھیمی موسیقی، جگہ جگہ کبابوں کی خوشبو، خوبصورت ملبوس زیب ِ تن کیے محرابی بالکونیوں پر کھڑی لڑکیاں دل کو لبھا رہی تھیں. علاقے میں پھولوں کی دکانیں جا بجا ہیں۔ رقص کرنے یا جسم فروشی کے پیشے سے منسلک خواتین کے لیے پھول لے کر جانا یہاں کا دستور ہے۔ مغل دور حکومت میں قائم کیا گیا یہ علاقہ موسیقاروں اور رقاصاؤں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ تب یہاں جسم فروشی نہیں ہوتی تھی۔ تاہم یہاں کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ اس بازار کا اصل روپ اب بگڑگیا ہے۔

ہیرا منڈی کا اولین نام شاہی محلہ تھا۔ اسے بعد میں ہیرا منڈی، بازارِ حسن اور ریڈ لائٹ سٹریٹ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ ہیرا منڈی کا قیام پندرہویں صدی میں مغل دورِ حکومت میں عمل میں آیا۔ یہاں مغل بادشاہ اپنے شہزادوں کو ثقافت، تہذیب، اٹھک بیٹھک، یہاں تک کہ کھانا کھانے کے آداب سکھانے بھیجا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ رعایا موسیقی سے محظوظ ہونے یہاں کا رُخ کرتی تھی۔ پھر جب اٹھارویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت آئی، تو مہاراجہ کے منھ بولے بیٹے ہیرا سنگھ نے شاہی محلہ میں ایک حویلی تعمیر کی۔ یوں ہیرا سنگھ کی مناسبت سے شاہی محلہ کا نام “ہیرا منڈی” پڑ گیا۔

.کیا ارادہ ہے باؤ جی ؟’ دلال  نے پان کی پیک ایک جانب تھوکتے ہوئے کہا’۔بس بازار دیکھ رہا ہوں.’ نا چاہتے ہوئے بھی میرے منہ سے سچ پھسل گیا’‘بازار؟’ اس نے ایک میسنا سا قہقہہ لگایا. ‘بازار میں کیا ہے دیکھنے کو؟ دیکھنا ہے تو بازار والیوں کو دیکھو‘۔بازار والیاں کہاں ہیں؟’ میں نے ہچکچاتے ہوئے دریافت کیا’ میں چونکہ ہیرا منڈی کے بازاروں اور تنگ گلیوں سے واقف نہیں تھا احتیاطی طور ایک دلال کو بھی ساتھ لے لیا آپ اسے گائیڈ ہی سمجھیں  مقصد یہ تھا کہ راستہ بھی پتہ چل جاۓ اور وقت بھی اچھا کٹ جائے.خوش قسمتی سےیہ گائیڈ پچھلی چار نسلوں سے  یہاں  کا رہائشی تھا اور وہ اپنے اندر ایک معلومات کا خزانہ تھا جب اسے یہ پتہ چلا کہ میں اوکاڑہ سے ہوں تو کہنے لگا سر آہیں آپ کو ایک اوکاڑہ کی خوبصورت رقاصہ سے ملواؤں اب اس نے یہ کام چھوڑ کر بچوں کو پڑھانا شروع کیا ہوا ہے شہزادی  جو اپنی نوعمری میں اوکاڑہ سے یہاں آئی تھی سے ڈھیروں باتیں ہوئیں وہ پھر کھبی سہی دلچسب بات یہ تھی کے شہزادی  نے بی -اے کر رکھا ہے اور تاریخ کی کتابیں پرھنے کی شوقین ہے

شہزادی  نے بتایا، طوائفیں نہ صرف خوبصورت ہوتی تھیں بلکہ رقص و موسیقی اور شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں۔ اور خود کو منوانے کے لیے وہ اپنی یہ تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتی تھیں۔ ہیرا منڈی کا کردار برطانوی راج کے بعد تبدیل ہوا جب برطانوی حکمرانوں نے اسے اپنے فوجیوں کے لیے جسم فروشی کے اڈوں میں بدلنا شروع کیا۔ مزید تبدیلی تب آئی جب اسّی کے عشرے میں پاکستانی حکومت نے یہاں اخلاقی اور مذہبی بنیادوں پر پابندیاں لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ما حاصل یہ کہ طوائفوں نے جسم فروش کا پیشہ اختیار کر لیا ہے۔ یہاں اب کوئی رقاصہ نہیں رہی۔

ہیرا منڈی میں دو طرح کے لوگ اکثریت میں ہیں۔ ایک کنجر طبقہ ہے۔ اس طبقہ کی عورتیں ناچ گانے سے جڑی ہوئی ہیں۔ دوسرا طبقہ میراثیوں کا ہے۔ یہ کنجر طبقہ کی عورتوں کو موسیقی اور ناچنے کی تربیت دیتے ہیں۔ چاہے کنجر طبقہ کی خواتین جسم فروشی نہ بھی کریں تو بھی انہیں طوائف ہی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ موسیقاروں اور میوزک کی شاپس کی وجہ سے بہت شہرت کا حامل تھا آج کے دور میں استاد طافو شامل ہیں جن کی ساری فیملی آج بھی بھاٹی گیٹ میں رہائش پذیر ہے۔ استاد برکت علی خان، فتح علی خان اور امانت علی خان بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ گانے والی خواتین جن میں فریدہ خانم اور نور جہان بھی شامل تھیں جنہوں نے استاد سے تربیت حاصل کی۔ پرانے زمانے میں قحبہ خانے پر گانے کا ایک مشہور سٹائل غزل گائیکی تھا۔ یہ زیادہ تجرباتی اور لچکدار سٹائل تھا جو ٹھمری سے ایک قدم آگے تھا۔ اگر آپ وہ گھنگرو ڈانس دیکھنا اور غزل سننا چاہیں تو آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔

جب ضیاالحق نے ان سب چیزوں پر پابندی لگائی تو علاقہ میں ایک معاشی قحط پیدا ہو گیا۔ مکان مالک جو کنجروں سے 5000 ماہانہ کرایہ لیتے تھے اب ان کو وقت پر پیسے نہیں ملتے تھے کیونکہ کنجر کمیونٹی کا معاشی سلسلہ بہت آہستہ اور کمزور ہو گیا تھا۔ جب جوتے بنانے والے تاجروں نے زیادہ کرایہ کی پیش کش کی تو مالک مکانوں کو اپنے کرایہ داروں کو زبردستی رخصت کرنا پڑا۔ ایک تیسری اور سب سے مشکل آپشن بھی موجود تھی، یہ چیز سستے داموں جسم فروشی تھی۔ لیکن چونکہ کنجر خاندان کی لڑکیاں فنکاری جانتی تھیں اس لیے انہیں فلم انڈسٹری کا رخ کرنا پڑا۔ باقی لوگ مشہور سنگر بن گئے۔ جو زیادہ مہارت اور ٹیلٹ نہیں رکھتے تھے انہیں علاقہ چھوڑ کر جانا پڑا۔

ہیرا منڈی سے تعلق رکھنے والے تمام آرٹسٹ اور موسیقار ریڈ لائٹ ایریا پر آنے والی موت پر ماتم کناں ہیں۔ جہاں پہلے سے تربیت یافتہ لوگوں کو کوئی نہ کوئی موقع مل جاتا تھا وہیں کچھ نئے موسیقار اور ڈانسر بھی ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ پرانے لوگ ان نئے ابھرتے چہروں کو الزام دیتے ہیں کہ انہوں نے آرٹ کی قیمت گھٹا دی ہے۔ مثال کے طور پرروبینہ جب نئی خواتین ڈانسر کے بارے میں بات کرتی ہیں تو ان کی آواز بھرا جاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں: ہمیں بڑے بڑے موسیقاروں نے تربیت دی تھی اور ہم نے ان کی ہر سر اور تال کو سٹڈی کیا تھا۔ ہم ان سروں کے مطابق حرکت کرتے تھے۔ ہم اپنے قدموں سے پیسے کماتے تھے۔ آج کی یہ دو نمبری ڈانسر لڑکیاں فحش ڈانس کر کے پیسے کماتی ہیں۔

شہزادی  کوسلام کر کے اجازت لی اور کبابوں والے کے پاس پہنچے، کبابوں کا قصہ باقی آوارگی پھر سہی
(میرے لئے تمام خواتین قابل عزت ہیں تحریر میں مجبورن خواتین کے لئے وہ الفاظ استعمال کرنے پڑے جو اس وقت اس علاقے میں رائج ہیں )
مصنف سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس۔ اب پنجاب پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں. (جاری ہے)

 

نوٹ:قلم کلب ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ newsdesk@qalamclub.com پر ای میل کیجیے۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: Bazar e HussanHira MandiProstituteShahi Muhallah
Previous Post

پنجاب سے کورونا وائرس کے مزید 60 کیس، تعداد 4255 ہو گئی،محکمہ ہیلتھ پنجاب

Next Post

جنگل کا بادشاہ قیمت ڈیڑھ لاکھ، سفاری پارک کے 14 شیر فروخت کر دیئے گئے

News Editor

News Editor

Next Post

جنگل کا بادشاہ قیمت ڈیڑھ لاکھ، سفاری پارک کے 14 شیر فروخت کر دیئے گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading

 

Loading Comments...