یورپ کے ماحولیاتی بحران میں اسپین ایک ہولناک مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں شدید گرمی کی غیر معمولی لہر نے صرف دو ماہ میں 1,180 افراد کی جان لے لی۔ اسپین کی وزارت ماحولیات کے مطابق، یہ اعداد و شمار گزشتہ برس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں، جب اسی عرصے میں صرف 114 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت 65 سال سے زائد عمر کی خواتین کی ہے، جن کا تعلق اُن علاقوں سے تھا جہاں ماضی میں موسم نسبتاً معتدل رہا کرتا تھا، جیسے کہ گلیشیا، لا رِیوجا، آسٹوریاس اور کانتابریا۔
وزارت کے مطابق 16 مئی سے 13 جولائی تک ملک بھر میں 76 بار "ریڈ الرٹ” جاری کیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ گرمی محض ایک موسمی کیفیت نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی بحران ہے۔
2024 کے موسم گرما میں اسپین میں گرمی سے متعلق کل اموات کی تعداد 2,191 رہی تھی، لیکن 2025 کی ابتدا میں ہی اموات کی موجودہ شرح باعثِ تشویش ہے۔
ادھر برطانیہ میں بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہو چکے ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز نے 250 سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ بارش والے موسم سرما کا سامنا کیا، جب کہ گزشتہ تین سال گرم ترین ثابت ہوئے ہیں۔
برطانیہ کے وزیرِ توانائی ایڈ ملی بینڈ نے خبردار کیا ہے کہ "ہماری طرزِ زندگی خطرے میں ہے،” اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔









