یروشلم/بیروت (ویب ڈیسک) — اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ اگر لبنان حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے متعدد مقامات سے مرحلہ وار انخلا کے لیے تیار ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل لبنان کی خودمختاری اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کے لیے اس عمل کا خیر مقدم کرتا ہے اور ایک پرامن مستقبل کے لیے ہر ممکن تعاون پر آمادہ ہے۔
اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ اگر لبنانی فوج اور حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں عملی اقدامات کرتی ہے تو اسرائیلی فوج امریکی سرپرستی میں بنائے گئے سیکیورٹی میکنزم کے تحت فوجی انخلا شروع کرے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان نے امریکی منصوبے کے تحت حزب اللہ کو ایک سال کے اندر غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لبنانی صدر اور وزیراعظم نے فوج کو اس عمل کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ نومبر 2024 میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک سال طویل سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، تاہم اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کے پانچ اہم مقامات پر موجود ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیراک نے حالیہ دنوں میں بیروت اور یروشلم کے دورے کے دوران کہا کہ لبنان نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے، اب وقت ہے کہ اسرائیل بھی جنگ بندی کے اپنے وعدوں پر عمل کرے اور غیر ضروری کارروائیاں بند کرے تاکہ امن کے عمل کو نقصان نہ پہنچے۔









