• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home کھیل
ادویات

ادویات

ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، مریضوں کی قوت خرید متاثر ہونے لگی

روز مرہ میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں 2023 کے مقابلے میں 2024 میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا

Muhammad Siddique by Muhammad Siddique
جنوری 20, 2025
in کھیل
0 0
0

کراچی(ہیلتھ رپورٹر)کراچی میں ادویات کی قیمتیں غریب مریضوں کی پہنچ سے دور ہوگئیں، گزشتہ سال ادویات کی قیمتوں میں 3 سے 4 بار اضافہ کیا گیا۔

امراض قلب، نزلہ زکام، ذہنی دبائو، ملٹی وٹامن، شوگر اور اینٹی الرجی سمیت روز مرہ میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں 2023 کے مقابلے میں 2024 میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، اس اضافے کے بعد مریضوں کی اکثریت نے ادویات روزانہ استعمال کے بجائے ایک دو دن کے وقفے سے کھا رہے ہیں۔پاکستان میں مجموعی طور پر 900 ادویات کی فارمولیشن رجسٹرڈ ہیں، ان میں 400 فارمولیشن جان بچانے والی (Essential) جبکہ 500 فارمولیشن (Non-Essential) رجسٹرڈ ہیں۔

No-Essential ادویات کی قیمتوں کو ڈی کنٹرول کر دیا گیا جبکہ Essential ادویات پر سالانہ 7 فیصد تک اضافے کی اجازت ہے۔اس وقت مارکیٹ میں بیرون ممالک سے منگوائے جانے والے ضروری انجکشن کی قلت برقرار ہے۔ ایلوپیتھی ادویات پر کوئی ٹیکس نہیں جبکہ Alternative (متبادل)ادویات پر 2024 سے 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس(جی ایس ٹی) عائد کر دیا گیا ہے۔اس ضمن میں پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل عاصم جمیل صدیقی نے بتایاکہ مہنگائی اور ڈالر کی قدر بڑھنے کی وجہ سے بیشتر ادویات کی قیمتوں میں 2023 کے مقابلے میں 2024 میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ Non-Essential ادویات میں زیادہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی جاری کردہ فہرست کے مطابق پاکستان میں 400 دواں کے فارمولیشن جان بچانے والی (Essential) جبکہ 500 فارمولیشن (Non-Essential) کی فہرست میں شامل ہیں اور یہ فارمولیشن وفاقی حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے Non-Essential ادویات کی قیمتوں کو ڈی کنٹرول کیے جانے کے بعد ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ Essential دواں پر سالانہ 7 فیصد اضافہ کی اجازت ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ادویات سمیت مختلف ویکسین کی قلت برقرار ہے جبکہ ان کی قیمتیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ملٹی نیشنل فارما کمپنیوں کی قیمتیں مقامی فارما کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ Non-Essential دواں کو ڈی کنٹرول کرنے کے بعد فارما کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کر دیا ہے اور یہ بات درست ہے کہ دوائیں عام مریضوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔عاصم جمیل صدیقی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایلوپیتھی ادویات پر کوئی جنرل سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہے جبکہ Alternative ادویات پر 2024 سے 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ Pheniramine Maleate انجکشن کی اپریل 2024 میں 432روپے قیمت تھی لیکن کمپنی نے تین ماہ بعد اگست 2024 میں اس انجکشن کی قیمت میں دوبارہ اضافہ کرکے 1500 روپے کر دی۔ ملٹی وٹامن میں استعمال ہونے والی دوا جو اپریل 2024 میں 224 روپے تھی جون 2024 میں وہی دوا 281روپے اور اکتوبر 2024 میں 351روپے قیمت کر دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اسی طرح میٹو پرامائڈریزینیٹ کیپسول کی 2024 میں 330 روپے کی قیمت تھی لیکن 2024 میں اس کی قیمت 665 روپے کر دی گئی۔ اسی طرح Prochlorperazine Maleate دوا فروری 2024 میں 312روپے کی تھی لیکن اپریل 2024 میں اس کی قیمت بڑھا کر 390 روپے اور ستمبر 2024 میں اس دوا کی قیمت 900 روپے کر دی گئی۔ کھانسی کے ایک شربت کی قیمت 89روپے تھی لیکن ستمبر 2024 میں اس سیرپ کی قیمت 130 روپے کر دی گئی۔اسی طرح منہ میں چھالے ہونے کی صورت میں استعمال کی جانے والی Myconazol جل کی قیمت 2024 میں 215 روپے تھی لیکن 2024 میں ہی اس کی قیمت میں اضافہ کر کے 588 روپے کر دی گئی۔

ریسرچ رپورٹ کے مطابق بیشتر ادویات کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران تین تین بار اضافہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے غریب مریضوں نے ادویات کا استعمال کم کر دیا ہے۔ہول سیل ادویات مارکیٹ کے زبیر وہاب نے بتایا کہ گزشتہ سال ادویات کی قیتموں میں مسلسل غیر اعلانیہ اضافہ ہو رہا ہے، گزشتہ سال ہر 15 دن بعد مختلف ادویات کی قیمتوں میں ہولناک اضافہ ہوا ہے اور ایسی بھی کئی ادویات ہیں جس کی قیمتوں میں ایک ماہ کے دوران 3 تین بار اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہر دوا کے پیکٹ پر 300 سے 400 روپے کا اضافہ ہوا ہے، کچھ ادویات کی قیمت میں 50 سے 75 فیصد نمایاں اضافہ ہوا ہے۔زبیر وہاب نے کہاکہ 2024 سے ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں، ادویات کی اضافی قیمتوں پر کوئی ادارہ پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نزلہ، زکام، بخار اور الرجی میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ سرد موسم میں ان ادویات کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بیشتر مقامی فارما ازخود قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں، جنریک نام سے مارکیٹ میں فروخت ہونے والی Iboprofen مئی 2024 میں ایک دوا کے پیکٹ کی قیمت 1063روپے تھی جبکہ اس دوا کی قیمت جولائی 2024 میں 1170 روپے کر دی گئی اور ستمبر 2024 میں اسی دوا کی قیمت میں تیسری بار اضافہ کرکے 1276 روپے کر دی گئی۔ اس طرح صرف ایک دوا پر 5 ماہ کے دوران تین بار اضافہ کیا گیا۔سرکاری ادارے میں کام کرنے والے ملازم جاوید نے بتایا کہ بلڈ پریشر کی ایک سال سے ادویات استعمال کر رہا ہوں، گزشتہ سال سے ایک دوا کی قیمت میں مختلف اوقات میں 300 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی طرح میرے گھر میں دیگر امراض کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے یومیہ استعمال کرنے کے بجائے ایک دو دن وقفے سے دوا استعمال کرتا ہوں جس کی وجہ سے میرا بلڈ پریشر نارمل نہیں رہتا۔ بلڈ پریشر کی ادویات میں اضافے کے بعد مستقل دوا نہ کھانے کی وجہ سے روز مرہ کے معمولات اور دفاتر کے کام شدید متاثر ہوتے ہیں۔امراض قلب میں مبتلا ایک مریض غلام رسول نے بتایا کہ بلند فشار خون، حرکت قلب اور شوگر سمیت دیگر امراض لاحق ہیں اور ان امراض کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات روز بہ روز مہنگی ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے میرے لیے ان دواں کا خریدنا مشکل تر ہوگیا ہے جوکہ میری زندگی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دوائیں مہنگی ہونے کی وجہ سے میں ڈاکٹروں کی تجویز کردہ خوراک کو استعمال کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے مجبورا مجھے دواں کے استعمال میں وقفہ کرنا پڑ رہا ہے اور محدود وسائل کی وجہ سے میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہوں۔انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ زندگی بچانے والی دواں کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرے جوکہ کم آمدن مریضوں کی قوت خرید سے باہر ہو رہی ہیں۔ غلام رسول نے بتایا کہ میری تنخواہ کا نصف سے زائد حصہ دواں کی خریداری اور علاج معالجے و طبی ٹیسٹوں کی مد میں چلاجاتا ہے جس کی وجہ سے گھر کے روز مرہ اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: ادویاتقوت خریدقیمتوںمریضوںمسلسل اضافہ
Previous Post

یو ای ٹی لاہور نے 2طلبہ کو الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کر دی

Next Post

معیشت کے لیے اچھی خبر، صوبہ سندھ ، پنجاب میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

Muhammad Siddique

Muhammad Siddique

Next Post
تیل و گیس

معیشت کے لیے اچھی خبر، صوبہ سندھ ، پنجاب میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading