برسلز، 7 اپریل 2025
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کے سیکرٹری جنرل انتھونی بولنگر نے پاکستان کے متنازعہ "پیکا ایکٹ” کو "کالا قانون” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے اسے واپس نہ لیا تو آئی ایف جے اقوام متحدہ سے مدد کی درخواست کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی موجودگی میں اظہار رائے کی آزادی اور صحافت کی آزادی پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پی ایف یو جے کے وفد نے برسلز میں آئی ایف جے کے ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی، جہاں انہوں نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں اور شہریوں کے خلاف درج مقدمات پر تفصیل سے بریفنگ دی اور عالمی سطح پر اس کالے قانون کے خلاف آواز اٹھانے کی درخواست کی۔ وفد میں پی ایف یو جے کے نئے منتخب سیکرٹری جنرل شکیل احمد، برسلز پریس کلب کے صدر عظیم ڈار، سیکرٹری فنانس مرزا عمران بیگ اور پاکستان پریس کلب میلان کے صدر ملک فخر جیلانی شامل تھے۔
انتھونی بولنگر نے کہا کہ آئی ایف جے پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور چیف جسٹس کو خطوط لکھے گا اور ایشیا پیسیفک، یورپ، امریکہ، کینیڈا اور افریقہ کے عہدیداروں کو بھی اس مسئلے میں شامل کیا جائے گا۔ اگر پاکستان حکومت نے پیکا ایکٹ واپس نہ لیا تو آئی ایف جے اقوام متحدہ سے مدد کی درخواست کرے گا، کیونکہ پاکستان یو این کے چارٹر کا پابند ہے۔
آئی ایف جے نے پاکستانی صحافیوں کے لیے جدید تربیتی پروگرامز جاری رکھنے کا وعدہ کیا اور 3 مئی (عالمی یوم صحافت) کے موقع پر دنیا بھر کی صحافتی تنظیموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کے خلاف عالمی مہم چلانے کا اعلان کیا۔









