• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home تبصرہ / تجزیہ

کشمیر ۔۔۔۔۔۔ کیا ہم امکانی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ آصف محمود

بھارت نے جو کرنا تھا کر دیا ۔ سوال یہ ہے اب ہمارے پاس کیا آپشنز ہیں ؟

News Editor by News Editor
اگست 6, 2019
in تبصرہ / تجزیہ
0 0
0

آصف محمود

کشمیر کے مسئلے پر ، جذباتی اعتبار سے میں بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں ایک عام پاکستانی کھڑا ہے۔ میں مسئلہ کشمیر کے مثالی حل پر یقین رکھتا ہوں اور میری خواہش ہی نہیں حسرت بھی ہے کہ یہ مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہو۔ لیکن میں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا کہ مثالی حل پر اصرار اگر محض دکھوں میں اضافہ کر رہا ہو اور آپ کے آپشنز لمحہ لمحہ محدود تر ہوتے جا رہے ہوں تو اس صورت میں امکانی حل کی طرف بڑھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہوتا ۔ میرے پیش نظر اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک امکانی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟

بھارت کے حالیہ اقدام کی ممکنہ طور پر تین صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ اس نے ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کے بیان کے بعد فرسٹریشن کے عالم میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ اس نے عالمی برادری یا کم از کم دو تین اہم ممالک کو اعتماد میں لے لیاہے اور اب وہ اسرائیل کی طرز پر وادی میں ہر چیز کو کچل دینا چاہتا ہے اور اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ پاکستان کیا سوچ رہا ہے۔ تیسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ عالمی برادری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی اس سلسلے میں اعتماد میں لے لیا گیا ہو اور ایک وسیع تر مشاورت کے بعد ایک امکانی حل کی طرف پیش قدمی کی جا رہی ہو۔ جب تک واضح شواہد دستیاب نہ ہوں حتمی طور پر کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ۔

بھارت ایک قوت ضرور ہے لیکن اتنی بے لگام نہیں کہ ٹرمپ کے ثالثی کے بیان کے ایک ہفتے بعد وہ اس دیدہ دلیری سے پیغام دے کہ ثالث کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں جب کہ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ افغانستان میں امریکہ کے لیے پاکستان کی کیا اہمیت ہے۔ پاکستان معاشی بحران سے ضرور دوچار ہے لیکن نہ پاکستان فلسطینی اتھارٹی ہے نہ ہی بھارت اسرائیل ہے۔ دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور کشمیر ایک نیوکلیئر فلیش پوائینٹ ہے۔ پاکستان کو چیلنج کرتے ہوئے کشمیر میں اتنی بھاری فوجی نفری داخل کر کے اس انداز سے قانون سازی کی کوشش کوئی ایسا قدم نہیں کہ اس سکون سے اٹھالیا جاتا ۔ عالمی سطح پر ایک بھونچال آ جانا تھا اور خود پاکستان کے لیے ممکن نہیں تھا اسے نظر انداز کر دیتا ۔ تاہم پاکستان کے لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ کسی ایسے عمل کا حصہ بن جائے جو کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس ان پر ٹھونسا جائے۔

ہر مسئلے کے دو حل ہوتے ہیں ۔ ایک مثالی اور ایک امکانی ۔ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ مثالی حل کی طرف بڑھا جائے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں معاملات انصاف کی بنیاد پر کبھی بھی حل نہیں ہوئے۔ یہ زمینی حقائق ہوتے ہیں جو انہیں حل کرتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال ہم مسئلہ فلسطین کی شکل میں دیکھ چکے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ہو جو فلسطینیوں کے موقف درست نہ سمجھتا ہو لیکن اس سے اسرائیلی بربریت اور فلسطینیوں کی حالت زار میں کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ آپ کی اخلاقی قوت نہیں ، یہ آپ کی مادی قوت ہوتی ہے جو فیصلے کرتی ہے اور مادی قوت فلسطینیوں کے پاس نہیں اسرائیل کے پاس ہے۔

بعض چیزوں کا تعلق اصول سے نہیں حکمت سے ہوتا ہے ۔ اپنے مشاہدے اور تجربات سے آدمی سیکھتا ہے۔ 1947ء میں جب فلسطین تقسیم ہوا تو عربوں کو قریبا 45 فیصد دیا گیا ۔ آج یہ سمٹ کر چند فیصد تک رہ گیا ہے اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اسرائیل دو ریاستوں کے فارمولے کو بھی ماننے کو تیار نہیں اور مسلمان قیادت درخواستیں لیے دنیا میں پھر رہی ہے کہ ہم دو ریاستوں کے فارمولے پر تیار ہیں از رہ کرم اس پر عمل کروا دیجیے۔ ان کے آپشنز لمحہ لمحہ سمٹ رہے ہیں۔

بھارت دنیا کی سب سے بڑی کنزیومر مارکیٹ ہے ۔ دنیا کے مفادات ہماری نسبت اس کے ساتھ زیادہ جڑے ہوئے ہیں ۔ او آئی سی ایک نمائشی ادارہ ہے۔ اقوام متحدہ بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ۔ امریکہ کے ہاں بھی اصول نہیں مفادات کی روشنی میں معاملہ ہوتا ہے۔ کشمیریوں نے قربانی اور مزاحمت کی ایک داستان رقم کر دی ہے۔ لیکن آخر کب تک وہ وادی کو لہو سے غسل دیتے رہیں ۔ اب یا تو مسلم دنیا اٹھے اور کشمیریوں کا ساتھ دیتے ہوئے بھارت سے دو دو ہاتھ کر لے پھر جو ہو دیکھا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا توسوال یہ ہے پھر ان مظلوموں سے خیر خواہی کیا ہے؟ اپنے گھروں میں بیٹھ کر فیس بک پر سٹیٹس لگا کرکشمیریوں سے مقتل آباد کرتے رہنے کا مطالبہ یا ان کے لیے امن اور عافیت کی تلاش۔

پاکستان کے لیے موزوں یہ ہے کہ طاقت کا توازن بدلنے تک ایک پر امن سٹیٹس کو برقرار رکھا جائے لیکن شاید یہ بھی ممکن نہیں رہا ۔ ٹرمپ اپنے انداز سے معاملات حل کرنا چاہتا ہے ۔ کشمیر پر اس کی ثالثی کی چین نے بھی تائید کی ہے۔ شاید عالمی طاقتیں اس نیوکلیر فلیش پوائنٹ کا اب حل چاہتی ہیں ۔ اور دو ایٹمی قوتوں کے درمیان اس مسئلے کا حل مثالی نہیں ، امکانی ہو گا ۔ اب کوئی مسئلہ مقامی یا دو طرفہ نہیں رہا ۔ یہ عالمی قوتوں کا ایک ڈیزائن ہوتا ہے جو ان کی صورت گری کرتا ہے۔ اس کی مزاحمت مقصود ہے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے اس کا میدان اب روایتی نہیں رہا ۔ اپنی تعمیر کر کے اس قابل بننا ہو گا کہ اس ڈیزائن میں آپ کی اتنی افادیت ہو کہ آپ اس میں جوہری تبدیلی کروا سکیں ۔

حالات کے جبر کے اس عالم میں دیکھنا یہ ہے کہ خود کشمیری اس پر کیا رد عمل دیتے ہیں ۔ یہ آسان نہیں ہو گا کہ بھارت اس طرح قوت سے کشمیری سماج کو دبا لے۔ شدید رد عمل آئے گا ۔ محبوبہ مفتی جیسی بھارت نواز قیادت یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ دوقومی نظریہ حقیقت تھا اور ان کی قیادت کا بھارت کی جانب جھکائو ایک غلط فیصلہ تھا ۔ یہ رد عمل آنے والے دنوں میں بڑھے گا ۔ طاقت اور بربریت سے اس رد عمل کو نہیں دبایا جا سکے گا۔

 

نوٹ:قلم کلب ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا کالمسٹ یا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: asif mahmoodIndiaIndian Occupied KashmirkashmirKashmir oppressionkashmir situationModi
Previous Post

کشمیر اور فلسطین۔ ایک ہی کہانی

Next Post

کڑی آزمائش کا وقت، محمدعامرخاکوانی

News Editor

News Editor

Next Post
Nov 15, 2006; Srinigar Lal Chowk, Kashmir, INDIA; Supporters of Jammu Kashmir Democratic Political Movement (JKDPM) shout pro-freedom slogans during a demonstration in central Srinagar, the summer capital of Indian Kashmir. Dozens of supporters of JKDPM were detained when they were marching on the streets of Srinagar to protest against government’s proposal to lend Gulmarg, the famous Asian ski resort, to non-state subjects. Demonstrators allege that 'this move shows that the government of India is insincere and it has evil designs aimed at selling out the soil of Kashmir.' Mandatory Credit: Photo by Altaf Zargar/ZUMA Press. (©) Copyright 2006 by Altaf Zargar

کڑی آزمائش کا وقت، محمدعامرخاکوانی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5875

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

462
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading

 

Loading Comments...