اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے ایک چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مئی 2025 سے اب تک غزہ میں کم از کم 798 فلسطینی شہری اس وقت شہید ہوئے جب وہ خوراک یا امدادی سامان حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
جنیوا میں دفتر اقوام متحدہ کی ترجمان روینا شمدا سانی نے بتایا کہ "7 جولائی تک موصول ہونے والے مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق 798 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سے 615 افراد امدادی مراکز کے قریب اور 183 افراد قافلوں کے راستے میں جاں بحق ہوئے۔”
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر افراد کو اسرائیلی افواج کی فائرنگ یا گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جو امدادی مراکز کے آس پاس موجود تھے یا خوراک کی تلاش میں تھے۔
مزید یہ کہ رفح شہر میں امدادی مرکز کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں مزید 10 فلسطینی شہید اور 60 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ خان یونس کے علاقے السطر میں گولہ باری سے مزید 2 افراد جان سے گئے۔
عالمی سطح پر اس صورتحال پر ردعمل آنا شروع ہو چکا ہے۔ آسیان (جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن نے اسرائیل کو نہ صرف ایک غیرقانونی قابض ریاست قرار دیا بلکہ اسے "بے خوف نسل کشی” کا مرتکب بھی کہا۔
انہوں نے کہا کہ "اسرائیل کو گزشتہ 80 برس سے حاصل استثنیٰ نے اسے اس حد تک بے خوف کر دیا ہے کہ اب بھوکے بچوں کو مرنے دینا بھی اس کی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکا ہے۔”









