• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
پیر, 2 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home تبصرہ / تجزیہ
بوڑھے

مہنگے لوگ بھی کتنے سستے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!  

News Editor by News Editor
مارچ 14, 2023
in تبصرہ / تجزیہ
0 0
0

نیوز روم/امجد عثمانی

وطن عزیز  میں ایک بار پھر توشہ خانہ کا ہنگامہ برپا ہے۔۔۔۔کچھ "گراں قدر” تو کچھ” انمول” تحائف کی بازگشت ہے۔۔۔۔۔عمران خان کے "گھڑی سکینڈل” کے بعد توشہ خانہ کی پٹاری سے "گھڑیاں ہی گھڑیاں” برآمد ہو رہی ہیں۔۔۔۔تحفوں کا دو ہزار دو سے دو ہزار تئیس تک،

اکیس سالہ ریکارڈ،عام ہوا تو راز کھلا کہ ہر” چمکدار” چیز سونا نہیں ہوتی۔۔۔۔یہ بھید بھی آشکار ہوا کہ اپنے تئیں” مہنگے لوگ” کتنے ہی "سستے” ہوتے ہیں۔۔۔۔توشہ خانہ کی بہتی گنگا میں اشرافیہ نے صرف ہاتھ نہیں دھوئے بلکہ خوب اشنان کیا ہے۔۔۔۔۔چشم فلک نے شاید ہی کسی معاشی بدحال ملک میں” مال مفت دل رحم” کا ایسا” ہوس ناک” منظر دیکھا ہو۔۔۔۔۔۔لاہور ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کی انیس سو نوے سے دو ہزار ایک  تک کی، فہرست  بھی مانگ لی ہے جس سے نیا "پینڈورا باکس” کھلے گا اور کئی "پردہ نشین” بے نقاب ہونگے۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے ابھرتے ہوئے نیوز چینل پی این این کے نیوز شو "سوال تو ہوگا "کے اینکر پرسن جناب سید علی حیدر  نے "توشہ خانہ قانون” پر کیا ہی "جاندار سوال” اٹھایا ,

ہے۔۔۔علی حیدر  ٹی وی میزبانوں کے "ہجوم” میں ایک معتدل اور متمدن ٹی وی میزبان ہیں۔۔۔۔۔۔۔سنجیدہ اور فہمیدہ علی حیدر کے لہجے میں کمال توازن ہے۔۔۔۔۔۔۔آداب گفتگو سے بہرہ ور ہیں تو انداز گفتگو بھی دلکش ہے۔۔۔۔۔۔۔”اچھل کودیے” اینکرز کی بے ہنگم گفتگو کے برعکس خوب سوچ سوچ کر بولتے اور ان کے لفظ لفظ سے تہذیب جھلکتی ہے۔۔۔۔کسی سیاسی جماعت نہیں عوام کی زبان بولتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

سید علی حیدر نے اپنے تیرہ مارچ پیر کے پروگرام میں بتایا کہ اشرافیہ” منطق” پیش کرتی ہے کہ کسی ملک سے ملنے والے تحفے کی قیمت لگوا کر اس کا ایک حصہ ادا کر کے تحفہ اپنے پاس رکھ لینا غیر قانونی نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا قانون بنایا ہی کیوں گیا جو اشرافیہ کو فائدہ دے۔۔۔کیا یہ قانون صرف اس بنیاد پر تسلیم کر لیا جائے کہ اسے اشرافیہ نے بنایاہے۔۔۔؟؟؟؟اشرافیہ یہ قانون کیوں نہیں بناتی  کہ ملنےوالےسب تحفوں کی نیلامی کرائی جائے اور حاصل رقم عوام پر خرچ کی جائے،جیسے ہمسایہ ملک بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نےکیا اور اس وقت سے کررہےہیں جب وہ گجرات کےوزیراعلیٰ تھے۔۔۔۔۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی دوہزاراکیس کی رپورٹ کےمطابق پاکستان کی اشرافیہ سالانہ سترہ ارب ڈالرز کی مراعات لیتی ہے جبکہ پاکستا ن آئی ایم ایف سے صرف ایک ارب ڈالر لینےکےلیے ناک سے لکیریں نکال رہا ہے۔۔۔۔۔کارپوریٹ سیکٹر پانچ ارب ڈالر کی مراعات لیتا ہے جس میں ٹیکس چھوٹ، بجلی اور گیس پر سبسڈی  شامل ہے۔۔۔۔صرف کابینہ اراکین کی تنخواہوں پر سالانہ دوسوارب روپے خرچ ہوتےہیں۔۔۔۔۔یہ تو صرف تنخواہیں ہیں۔۔اشرافیہ خود کو جو دیگر مراعات دیتی ہےوہ ان کےعلاوہ ہیں۔۔۔۔۔

سرکاری افسروں کوتنخواہ کےساتھ ساتھ  گھر ،ملازمین اور الاؤنس ملتےہیں۔۔۔۔۔میڈیکل ، گاڑی اور پیٹرول کی سہولت ملتی ہے۔۔۔بجلی ٹیلی فون اور گیس کی مد میں رعایت ملتی ہے۔۔۔۔۔ فضائی سفر اور ریلوے سفر کےلیے رعایتی نرخوں پر ٹکٹس ملتےہیں۔۔۔۔یہاں تک کہ سیاست دانوں نے جرم کےبعد جیل جانا ہو تو وہاں بھی مراعات کےلیے قانون موجود ہے۔۔۔۔۔انہیں سیاسی قیدی قرار دے کر جیلوں میں بہتر سہولیات دی جاتی ہیں۔۔۔۔۔

اس کےعلاوہ جاگیر دار،زمین دار اور وڈیرے۔۔یا تو سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں یا سیاسی جماعتوں سے ان کےتعلقات ہیں۔۔اس تعلق کی بنیاد پر ہی وہ مراعات لے جاتےہیں۔۔۔۔ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پورے ملک  کی بائیس فیصد زرعی زمین، صرف  ایک فیصد زمین داروں کے پاس ہے۔۔۔۔اس زمین سے وہ سالانہ بنیادوں پر نو سو ارب روپے آمدن حاصل کرتےہیں اور نو سو ارب روپے کی آمدن پر وہ صرف تین ارب روپے ٹیکس دیتے ہیں۔۔۔یوں اشرافیہ پاکستان کو سالانہ بنیادوں پر سترہ ارب ڈالر کی پڑ رہی ہے جبکہ اس کی بنائی پالیسیز سے حالات یہ ہیں کہ پاکستان کےاکتیس فیصد تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں اور  سڑسٹھ فیصد نوجوان ملک چھوڑنا چاہتےہیں۔۔۔یہ لوگ ابھی تک کوئی ایساسرکاری سکول نہیں بنا سکے ۔۔جہاں ان کے اپنے بچے پڑھتے ہوں۔۔۔۔

ابھی تک ایسا کوئی سرکاری ہسپتال نہیں بنا سکے۔۔جہاں خود بھی علاج کراتےہوں۔۔۔۔۔۔۔علی حیدر کا یہ پروگرام پاکستان کے عوام کا نوحہ”ہے۔۔۔۔۔۔

حسن اتفاق دیکھیے کہ جس شب علی حیدر صاحب اشرافیہ کے” من گھڑت "توشہ خانہ قانون کیخلاف دہائی دے رہے تھے اسی رات لاہور کی معتبر دینی درسگاہ دارالعلوم جامعہ نعیمیہ نے بھی توشہ خانہ کے مروجہ قانون کوغیر شرعی قرار

دیکر اپنے حصے کا کلمہ حق کہہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔یہ ایک سنجیدہ موضوع پر سنجیدہ فتویٰ ہے۔۔۔۔۔یہ ایک خود ساختہ”پیر صاحب”کے  ان پچاس  مفتیان کرام کا فتویٰ نہیں جو ریوڑیوں کی طرح فتوے بانٹتے ہیں۔۔۔۔۔وہی مفتیان کرام جنہوں نے دو ہزار سولہ میں سستی شہرت کے لیے خواجہ سرائوں سے شادی کا فتویٰ دے دیا تھا۔۔۔۔وہی فتوی جس پر ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمان نے اپنے ایک کالم میں ناگواری کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔۔میں نے ان دنوں مذکورہ ” پیر صاحب” کو فون کیا اور پوچھا حضرت کیا آپ نے کسی خواجہ سرا کو اپنے” حرم "میں لے لیا ہے تو وہ کھسیانی ہنسی ہنس دیے۔۔۔۔۔۔

انیس سو چوہتر میں بنے توشہ خانہ قانون کیخلاف یہ فتویٰ ایک اعتدال پسند اور مستند عالم دین ڈاکٹر راغب نعیمی کی زیر سیادت مفتیان کرام نے دیا ہے جس کا لفظ لفظ درد دل کی غمازی کر رہا ہے ۔۔۔۔۔

شرعی فتوی جاری کرنے والے  مفتیان کرام میں شیخ الفقہ مفتی محمدعمران حنفی،مفتی محمدندیم قمر،مفتی محمدعارف حسین،مفتی فیصل ندیم شازلی شامل ہیں۔۔۔۔۔۔شرعی فتویٰ کے مطابق توشہ خانہ سے کم قیمت یا اپنی مرضی کے داموں پر اشیاء کو خریدنا شرعی لحاظ سے جائز نہیں ۔۔۔۔۔احادیث مبارکہ کے مطابق حکومتی عہدے پر فائز شخص کو ملنے والا تحفہ اپنی ملکیت میں رکھنے پر رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی ہے۔۔۔۔۔۔

فتویٰ کے مطابق سربراہان مملکت ، وزرا اور  دیگرحکومتی سرکاری عہدیداروں کو غیر ملکی دوروں سے ملنے والے تحائف کو بیس یا پچاس فی صد رقم پر خرید نے کا قانون شرعاً درست نہیں۔۔۔۔۔ مذکورہ افراد کو ملنے والے تحائف ان کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ یہ ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں  کیونکہ یہ تحائف انہیں ریاست کے سربراہ اور ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے ملتے ہیں۔۔۔۔۔ حکومتی عہدیداروں کا ان تحائف کو مفت یا بیس یا پچاس فیصد رقم ادا کرکے اپنے تصرف اور ملکیت میں لاناجائز نہیں۔۔۔۔۔

اگر سربراہان و عہدیداران اپنی ملکیت میں لانا چاہیں تو ان کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق پوری قیمت ادا کرنے کے بعد لا سکتے ہیں ۔۔۔۔ اس کا بہتر حل یہ ہے کہ ان تحائف کو نیلام کیا جائے اور نیلامی میں ہر خاص و عام کو شرکت کی اجازت ہو۔۔۔۔ اس نیلامی سے حاصل رقم کو قومی خزانے میں جمع کرایا جائے کہ یہ رقم ریاست کی ملکیت ہے۔۔۔۔فتوی کے مطابق سربراہان مملکت کو ملنے والے تحائف کوچھپانا بھی خیانت کے زمرے میں آتا ہے جس کی وعید حدیث مبارکہ میں آئی ہے ۔۔۔۔

اگر کوئی حاکم یا حکومتی عہدہ دار اس تحفہ کو چھپا لے تو اس کا ایسا کرنا ناجائز وحرام اور قابل گرفت عمل ہے۔۔۔۔توشہ خانہ اشیاء کو کم قیمت پر لینا بھی امانت میں خیانت کے مترادف ہے اورخیانت کرنے والے روز محشرجواب دہ ہوں گے ۔۔۔۔۔

یہ عالم گیر اصول ہے کہ کسی بھی ملک کا توشہ خانہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں  ریاست کی ملکیت ہوتا ہے۔۔۔۔۔کوئی سیکھنا چاہے تو جماعت اسلامی سے سیکھ سکتا یے۔۔۔۔۔۔یہ صدیوں پرانا نہیں سید منور حسن کے” زمانہ امارت” کا واقعہ ہے۔۔۔۔۔کہتے ہیں کہ منور حسن کی بیٹی کی شادی ہوئی۔۔۔۔جس میں ملک کی اہم ترین شخصیات شریک ہوئیں۔۔۔۔سونے کے سیٹس سمیت لاکھوں کے تحائف ملے۔۔۔۔ تقریب ختم ہوئی تو منور حسن نے بیٹی سے کہا کہ اگر میں اس منصب پر نہ ہوتا تو مجھے یہ تحفے کبھی نہ ملتے۔۔۔۔

یہ مجھے اور آپ نہیں، میرے منصب کو ملے ہیں۔۔۔۔ان پر حق بھی ہمارا نہیں ،ہماری جماعت کا ہے اور پھر سارے تحفے بیت المال میں جمع کرادیے۔۔۔۔۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات برادرم قیصر شریف نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر راغب نعیمی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ملک میں بدترین معاشی بحران ہے لہذا توشہ خانہ سے مستفید سیاستدان اخلاقی طور پر  اپنے تحائف یا ان کے عوض پیسے توشہ خانہ میں جمع کرادیں۔۔۔۔ شنید ہے کہ وفاقی وزیر جناب احسن اقبال نے اپنے تحائف کے برابر   رقم خزانے میں جمع کرادی ہے۔۔۔۔۔احسن صاحب کا یہ "احسن اقدام” ہے۔۔۔۔دیر آید درست آید۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: امجد عثمانیتحائفتوشہ خانہسستےمہنگے لوگ
Previous Post

مجھے کچھ ہوتا ہے تو بدترین غلامی کو کبھی قبول نہیں کرنا، عمران خان

Next Post

پاکستان میں کاغذ کا بحران بھی شدت اختیارکر گیا

News Editor

News Editor

Next Post
کاغذ کا بحران

پاکستان میں کاغذ کا بحران بھی شدت اختیارکر گیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading