یوکرین کی سیاست میں ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے، جہاں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے موجودہ وزیرِ معیشت اور نائب وزیرِاعظم یولیا سویریڈینکو کو ملک کی نئی وزیرِاعظم کے طور پر نامزد کر دیا ہے۔ اگر پارلیمنٹ نے ان کی نامزدگی کی توثیق کر دی تو وہ یوکرین کی پہلی خاتون ہوں گی جو یہ اعلیٰ ترین منصب سنبھالیں گی۔
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یولیا کے ساتھ ملاقات میں معاشی ترقی، سماجی فلاحی منصوبوں میں وسعت، اور دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یولیا سویریڈینکو، جو کہ صرف 39 برس کی ہیں، حالیہ عرصے میں یوکرین اور امریکا کے درمیان ایک اہم معدنیاتی معاہدے میں مرکزی کردار ادا کر چکی ہیں۔ یہ معاہدہ اگرچہ بعض حلقوں میں تنقید کی زد میں آیا، لیکن بین الاقوامی سطح پر ان کی سیاسی فہم و فراست اور سفارتی مہارت نے انہیں یوکرین کی قیادت کے لیے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
اگر ان کی تقرری کی منظوری ہو جاتی ہے تو وہ وزیراعظم ڈینس شمیہال کی جگہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں گی۔ واضح رہے کہ انہیں روسی حملے سے قبل ہی معیشت کی وزارت دی گئی تھی، جس دوران انہوں نے مشکل حالات میں معیشت کو سنبھالا دیا۔









