کبھی سوچا ہے کہ عدالت کا مطلب کیا ہے ہمارے ہاں تو عدالت وہ جگہ ہے جہاں تاریخ پر تاریخ ملتی ہے، وکیل کی جیب بھرتی ہے اور غریب آدمی کے صبر کا امتحان لیا جاتا ہے۔ جج صاحب کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں جیسے فرعون تخت پر بیٹھا ہو اور عام آدمی کو لگتا ہے کہ انصاف کوئی اور دنیا کی چیز ہے۔ مگر امریکہ کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک جج تھے جنہوں نے عدالت کو فرعون کا دربار نہیں بلکہ انسان کا کمرہ بنا دیا۔ نام تھا فرینک کیپریو
فرینک کیپریو وہ جج تھے جو قانون کی کتاب کو پڑھنے سے زیادہ انسان کی آنکھوں میں چھپی کہانی پڑھتے تھے۔ کوئی بوڑھا جرمانہ بھرنے کے قابل نہ ہوتا تو وہ مسکرا کر معاف کر دیتے، کوئی طالب علم مشکل میں ہوتا تو ڈانٹنے کے بجائے نصیحت کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے انہیں سب سے مہربان جج کا لقب دیا۔ ایک پاکستانی طالب علم ان کے پاس گیا، پارکنگ کی تین پرچیاں تھیں، قانون کہتا تھا سزا ہونی چاہیے لیکن کیپریو نے کہا جاؤ بیٹا تم آزاد ہو، اور پھر اسے اپنے گھر کھانے پر بھی بلا لیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہمارے ہاں ایسا جج کسی پاکستانی طالب علم کو معاف کرتا تو اگلے دن ہی اسے توہین عدالت کا نوٹس دے دیا جاتا
کیپریو اٹھاسی برس کی عمر میں دنیا چھوڑ گئے۔ کینسر کے خلاف ڈٹے رہے لیکن آخرکار بیماری جیت گئی۔ مگر اصل میں وہی کامیاب ہوئے کیونکہ وہ کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ ریٹائر ہونے کے بعد خود کو ٹی وی ٹاک شوز میں زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کیپریو اپنی نرمی اور رحم سے لوگوں کے دلوں میں بس گئے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے جج کیوں پیدا نہیں ہوتے شاید اس لیے کہ ہم انصاف کو صرف سزا سمجھتے ہیں حالانکہ اصل انصاف وہ ہے جس میں رحم اور نرمی شامل ہو۔ کاش ہمارے ہاں بھی کوئی ایسا جج ہوتا جو قانون کی موٹی موٹی کتابیں بند کرکے انسان کے دل کی باریک تحریر پڑھ لیتا۔ لیکن یہاں تو کتاب کے صفحے الٹنے پر توجہ ہے، انسان کے آنسو پڑھنے پر نہیں۔
کبھی سوچا ہے کہ عدالت کا مطلب کیا ہے ہمارے ہاں تو عدالت وہ جگہ ہے جہاں تاریخ پر تاریخ ملتی ہے، وکیل کی جیب بھرتی ہے اور غریب آدمی کے صبر کا امتحان لیا جاتا ہے۔ جج صاحب کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں جیسے فرعون تخت پر بیٹھا ہو اور عام آدمی کو لگتا ہے کہ انصاف کوئی اور دنیا کی چیز ہے۔ مگر امریکہ کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک جج تھے جنہوں نے عدالت کو فرعون کا دربار نہیں بلکہ انسان کا کمرہ بنا دیا۔ نام تھا فرینک کیپریو
فرینک کیپریو وہ جج تھے جو قانون کی کتاب کو پڑھنے سے زیادہ انسان کی آنکھوں میں چھپی کہانی پڑھتے تھے۔ کوئی بوڑھا جرمانہ بھرنے کے قابل نہ ہوتا تو وہ مسکرا کر معاف کر دیتے، کوئی طالب علم مشکل میں ہوتا تو ڈانٹنے کے بجائے نصیحت کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے انہیں سب سے مہربان جج کا لقب دیا۔ ایک پاکستانی طالب علم ان کے پاس گیا، پارکنگ کی تین پرچیاں تھیں، قانون کہتا تھا سزا ہونی چاہیے لیکن کیپریو نے کہا جاؤ بیٹا تم آزاد ہو، اور پھر اسے اپنے گھر کھانے پر بھی بلا لیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہمارے ہاں ایسا جج کسی پاکستانی طالب علم کو معاف کرتا تو اگلے دن ہی اسے توہین عدالت کا نوٹس دے دیا جاتا
کیپریو اٹھاسی برس کی عمر میں دنیا چھوڑ گئے۔ کینسر کے خلاف ڈٹے رہے لیکن آخرکار بیماری جیت گئی۔ مگر اصل میں وہی کامیاب ہوئے کیونکہ وہ کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ ریٹائر ہونے کے بعد خود کو ٹی وی ٹاک شوز میں زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کیپریو اپنی نرمی اور رحم سے لوگوں کے دلوں میں بس گئے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے جج کیوں پیدا نہیں ہوتے شاید اس لیے کہ ہم انصاف کو صرف سزا سمجھتے ہیں حالانکہ اصل انصاف وہ ہے جس میں رحم اور نرمی شامل ہو۔ کاش ہمارے ہاں بھی کوئی ایسا جج ہوتا جو قانون کی موٹی موٹی کتابیں بند کرکے انسان کے دل کی باریک تحریر پڑھ لیتا۔ لیکن یہاں تو کتاب کے صفحے الٹنے پر توجہ ہے، انسان کے آنسو پڑھنے پر نہیں۔
نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے”قلم کلب”کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔









