• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home تبصرہ / تجزیہ

ہمارے ہاں جج اور وہاں فرینک کیپریو:تحریر: کاشف جاوید

News Editor by News Editor
اگست 21, 2025
in تبصرہ / تجزیہ
0 0
0

کبھی سوچا ہے کہ عدالت کا مطلب کیا ہے ہمارے ہاں تو عدالت وہ جگہ ہے جہاں تاریخ پر تاریخ ملتی ہے، وکیل کی جیب بھرتی ہے اور غریب آدمی کے صبر کا امتحان لیا جاتا ہے۔ جج صاحب کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں جیسے فرعون تخت پر بیٹھا ہو اور عام آدمی کو لگتا ہے کہ انصاف کوئی اور دنیا کی چیز ہے۔ مگر امریکہ کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک جج تھے جنہوں نے عدالت کو فرعون کا دربار نہیں بلکہ انسان کا کمرہ بنا دیا۔ نام تھا فرینک کیپریو

فرینک کیپریو وہ جج تھے جو قانون کی کتاب کو پڑھنے سے زیادہ انسان کی آنکھوں میں چھپی کہانی پڑھتے تھے۔ کوئی بوڑھا جرمانہ بھرنے کے قابل نہ ہوتا تو وہ مسکرا کر معاف کر دیتے، کوئی طالب علم مشکل میں ہوتا تو ڈانٹنے کے بجائے نصیحت کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے انہیں سب سے مہربان جج کا لقب دیا۔ ایک پاکستانی طالب علم ان کے پاس گیا، پارکنگ کی تین پرچیاں تھیں، قانون کہتا تھا سزا ہونی چاہیے لیکن کیپریو نے کہا جاؤ بیٹا تم آزاد ہو، اور پھر اسے اپنے گھر کھانے پر بھی بلا لیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہمارے ہاں ایسا جج کسی پاکستانی طالب علم کو معاف کرتا تو اگلے دن ہی اسے توہین عدالت کا نوٹس دے دیا جاتا

کیپریو اٹھاسی برس کی عمر میں دنیا چھوڑ گئے۔ کینسر کے خلاف ڈٹے رہے لیکن آخرکار بیماری جیت گئی۔ مگر اصل میں وہی کامیاب ہوئے کیونکہ وہ کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ ریٹائر ہونے کے بعد خود کو ٹی وی ٹاک شوز میں زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کیپریو اپنی نرمی اور رحم سے لوگوں کے دلوں میں بس گئے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے جج کیوں پیدا نہیں ہوتے شاید اس لیے کہ ہم انصاف کو صرف سزا سمجھتے ہیں حالانکہ اصل انصاف وہ ہے جس میں رحم اور نرمی شامل ہو۔ کاش ہمارے ہاں بھی کوئی ایسا جج ہوتا جو قانون کی موٹی موٹی کتابیں بند کرکے انسان کے دل کی باریک تحریر پڑھ لیتا۔ لیکن یہاں تو کتاب کے صفحے الٹنے پر توجہ ہے، انسان کے آنسو پڑھنے پر نہیں۔
کبھی سوچا ہے کہ عدالت کا مطلب کیا ہے ہمارے ہاں تو عدالت وہ جگہ ہے جہاں تاریخ پر تاریخ ملتی ہے، وکیل کی جیب بھرتی ہے اور غریب آدمی کے صبر کا امتحان لیا جاتا ہے۔ جج صاحب کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں جیسے فرعون تخت پر بیٹھا ہو اور عام آدمی کو لگتا ہے کہ انصاف کوئی اور دنیا کی چیز ہے۔ مگر امریکہ کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک جج تھے جنہوں نے عدالت کو فرعون کا دربار نہیں بلکہ انسان کا کمرہ بنا دیا۔ نام تھا فرینک کیپریو

فرینک کیپریو وہ جج تھے جو قانون کی کتاب کو پڑھنے سے زیادہ انسان کی آنکھوں میں چھپی کہانی پڑھتے تھے۔ کوئی بوڑھا جرمانہ بھرنے کے قابل نہ ہوتا تو وہ مسکرا کر معاف کر دیتے، کوئی طالب علم مشکل میں ہوتا تو ڈانٹنے کے بجائے نصیحت کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے انہیں سب سے مہربان جج کا لقب دیا۔ ایک پاکستانی طالب علم ان کے پاس گیا، پارکنگ کی تین پرچیاں تھیں، قانون کہتا تھا سزا ہونی چاہیے لیکن کیپریو نے کہا جاؤ بیٹا تم آزاد ہو، اور پھر اسے اپنے گھر کھانے پر بھی بلا لیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر ہمارے ہاں ایسا جج کسی پاکستانی طالب علم کو معاف کرتا تو اگلے دن ہی اسے توہین عدالت کا نوٹس دے دیا جاتا

کیپریو اٹھاسی برس کی عمر میں دنیا چھوڑ گئے۔ کینسر کے خلاف ڈٹے رہے لیکن آخرکار بیماری جیت گئی۔ مگر اصل میں وہی کامیاب ہوئے کیونکہ وہ کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ ریٹائر ہونے کے بعد خود کو ٹی وی ٹاک شوز میں زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کیپریو اپنی نرمی اور رحم سے لوگوں کے دلوں میں بس گئے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے جج کیوں پیدا نہیں ہوتے شاید اس لیے کہ ہم انصاف کو صرف سزا سمجھتے ہیں حالانکہ اصل انصاف وہ ہے جس میں رحم اور نرمی شامل ہو۔ کاش ہمارے ہاں بھی کوئی ایسا جج ہوتا جو قانون کی موٹی موٹی کتابیں بند کرکے انسان کے دل کی باریک تحریر پڑھ لیتا۔ لیکن یہاں تو کتاب کے صفحے الٹنے پر توجہ ہے، انسان کے آنسو پڑھنے پر نہیں۔
نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے”قلم کلب”کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Previous Post

سی پی سی کی مرکزی کمیٹی ، قومی عوامی کانگریس کی مجلس قائمہ ، ریاستی کونسل ،چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی اور مرکزی فوجی کمیٹی کی جانب سے شی زانگ خوداختیار علاقے کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ پر تہنیتی پیغام

Next Post

20 سے زائد غیر ملکی رہنما اور 10 بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، چینی وزارت خارجہ

News Editor

News Editor

Next Post
لیو بین

20 سے زائد غیر ملکی رہنما اور 10 بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، چینی وزارت خارجہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5873

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

461
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

278

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading