ہمارے معاشرے میں کچھ گوشت سے بنے کامریڈ ہر وقت "تاریخی مادیت”، "طبقاتی جدوجہد” اور "جدلیاتی مادّہ پرستی” کے بخارات میں غرق نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتگو ایسے لگتی ہے جیسے سقراط نے مارکس کے کان میں کچھ سرگوشی کر دی ہو، اور وہ اب کچے گوشت کی دکان پر بھی جدلیات تلاش کرتے پھرتے ہوں۔ ان کے نزدیک ہر شے بدلتی ہے، ہر نظریہ وقتی ہے، ہر چیز "سائنس آف ہسٹری” کے تابع ہے مگر خود ان کا نظریہ ہمیشہ کے لیے سچا ہے۔ اگرچہ فلسفے کا معمولی سا طالب علم بھی جانتا ہے کہ کوئی بھی شے، خواہ وہ خیال ہو یا نظام، اپنے اندر مطلق سچائی نہیں رکھتی۔ ہر چیز ایک مخصوص تناظر، مخصوص دور اور مخصوص مفادات کی پیداوار ہوتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر سب کچھ جدلیاتی ہے، تو کیا کمیونزم اور سرمایہ داری کے درمیان بھی کوئی جدلیاتی تعلق ہے؟ یقیناً ہے اور بڑا دلچسپ ہے۔ یہ دونوں نظام ایسے ہیں جیسے بلی اور کتا۔ ایک دوسرے کے دشمن، مگر ایک ہی گھر کے رہائشی۔ دونوں ایک دوسرے کو "رد” کرتے ہیں، مگر ان کی شناخت اسی رد سے قائم ہے۔ سرمایہ داری نے جیسے ہی پیداوار کو منافع کے پیمانے پر پرکھا، مزدور نے انقلاب کا جھنڈا اٹھا لیا۔ سرمایہ دار نے جب مزدور سے کہا: "تمہیں تنخواہ مل رہی ہے نا؟” تو کامریڈ نے جواب دیا: "ہاں، لیکن تم میری محنت سے محل کھڑا کر رہے ہو!” گویا ایک کی موجودگی، دوسرے کی مزاحمت کو جنم دیتی ہے۔
سرمایہ داری کہتی ہے پیدا کرو تاکہ بیچو، بیچو تاکہ منافع کماؤ۔ کمیونزم کہتا ہے پیدا کرو تاکہ سب کی ضرورت پوری ہو، اور منافع کو جوتے مارو۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کے ہاں پیداوار مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ فرق صرف نیت کا ہے۔ ایک شادی پیسے سے کرتا ہے، دوسرا محبت سے مگر گھر پھر بھی بنانا پڑتا ہے۔ سرمایہ دار کہتا ہے مارکیٹ آزاد ہو تو انسان آزاد ہے۔ کامریڈ کہتا ہے فرد کی آزادی تب ہے جب کوئی استحصال نہ کرے۔ دونوں کی "آزادی” دراصل ایک خوشنما جھانسا ہے۔ ایک میں آزادی خریدی جاتی ہے، دوسرے میں دی جاتی ہے، مگر دونوں صورتوں میں "دینے والا” موجود ہے۔ سرمایہ داری میں طاقت پیسے سے آتی ہے۔ کمیونزم میں طاقت "عوامی نمائندگی” سے آتی ہے جو اکثر پارٹی سیکرٹری کی ذات میں مرتکز ہو جاتی ہے۔ یعنی یا تو CEO بادشاہ ہے، یا جنرل سیکرٹری۔ عوام دونوں میں تماشائی۔
مارکسزم کہتا ہے کہ ہر نظام اپنے اندر اپنی قبر کھودنے والا پیدا کرتا ہے۔ سرمایہ داری نے اتنا استحصال کیا کہ مزدور نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ مگر وقت نے دکھایا کہ جہاں کمیونزم آیا، وہاں بھی اقتدار، جبر، اور اشرافیہ نے جنم لے لیا جس کا ردّعمل آخرکار دوبارہ سرمایہ داری کی طرف لوٹنے پر منتج ہوا۔ تو یہ جو سرمایہ داری اور کمیونزم کا رن ہے، یہ دراصل وجود اور معدوم کے درمیان جدلیاتی کشمکش ہے۔ ایک نظام جب اپنے تضادات سے بھر جاتا ہے تو دوسرا جنم لیتا ہے جیسے رات دن سے نکلتی ہے، اور دن رات سے۔ دونوں کا وجود ایک دوسرے کی نفی میں ہے، اور دونوں کی نفی ہی ان کا بقا ہے۔یہ جو کچھ گوشت سے بھرے ہوئے کامریڈ ہر وقت دنیا کو بدلنے پر تُلے رہتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ ذرا آئینے میں جھانک کر دیکھیں: کہیں آپ خود بھی اسی جدلیاتی چکر کا حصہ تو نہیں جس کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں؟ اور یاد رکھیں، اگر نظریہ مطلق ہو جائے تو وہ فلسفہ نہیں رہتا — مذہب بن جاتا ہے۔ اور مذہب کے نام پر دنیا نے جو کیا ہے، وہ تاریخ کا وہ صفحہ ہے جو کبھی روشنائی سے لکھا ہی نہیں گیا، ہمیشہ خون سے لکھا گیا ہے۔
کاشف جاوید
نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے”قلم کلب”کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔









