اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تعلیم کا فروغ سیاست نہیں بلکہ عبادت ہے،پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کو پاکستان کا فنڈ بنانا چاہیے تھا،میری دعا ہے کہ جو بھی حکومت آئے وہ تعلیم کو پہلی ترجیح دے،
خواہش تھی کہ سالانہ 2ارب روپے انڈوومنٹ فنڈ میں اضافہ کروں،ممکنہ حد تک مالی وسائل قوم کے بچوں پر نچھاور نہ کئے تو یہ سفر ادھورا رہے گا،انڈوومنٹ فنڈ سے بچوں کو سالانہ وظائف دیئے گئے تھے، فیصلہ کیا کہ اس سال 3ارب روپے کے وظائف دئیے جائیں،ہر قومیں محنت اور جدوجہد سے دنیا میںکامیاب ہوتی ہیں،ہماری آئی ایم ایف بورڈ کے ساتھ میٹنگ ہے،دعا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری ہوجائے،یہ لمحہ فخریہ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے،ہماری حکومت کی مدت 14اگست کو ختم ہوجائے گی،نومبر یا اکتوبر میں انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے،میری دعا ہے کہ جو بھی حکومت آئے وہ تعلیم کو پہلی ترجیح دے۔
بدھ کے روز اسلام آباد میں پاکستان ایجوکیشن انڈوومنٹ اور قومی نصاب میں اصلاحات کے آغاز کی تقریب کا انعقاد ہوا،تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی،تقریب کا آغاز قومی ترانے اور کلام پاک سے کیا گیا، رواں سال اس فنڈ سے 12ہزار باصلاحیت اور مستحق طلبا وطالبات مستفید ہوں گے،انڈوومنٹ فنڈ میں 50فیصد کوٹہ خواتین کےلئے رکھا گیا ہے،آئندہ چار سال میں اس فنڈ سے 10ارب روپے کے میرٹ وظائف دئیے جائیں گے،تقریب میں پاکستان ایجوکیشن فنڈز اور قومی نصاب میں اصلاحات کا آغاز کیا گیا،
تقریب میں وزیراعظم اور وزیر تعلیم نے طلباو طالبات میں ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈز کے وظائف تقسیم کئے،وظائف حاصل کرنے والوں میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات شامل تھے،تقریب میں وظائف لینے والے طلبا وطالبات نے وزیراعظم کے ساتھ گروپ فوٹو بھی لیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج میرے لئے انتہائی اطمینان کا دن ہے،
تعلیم کے ذریعے ہی دنیا نے ترقی کی،نواز شریف کی قیادت میں پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ کا قیام ہوا،ڈاکٹر امجد ثاقب نے 1997ءمیں پنجاب امین میرے ساتھ کام کیا تھا،خواہش تھی کہ سالانہ 2ارب روپے انڈوومنٹ فنڈ میں اضافہ کروں،انڈوومنٹ فنڈ سے بچوں کو سالانہ وظائف دیئے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ حد تک مالی وسائل قوم کے بچوں پر نچھاور نہ کئے تو یہ سفر ادھورا رہے گا،ایسے حالات بنائے جاتے کہ انڈوومنٹ فنڈ بڑھانے کی کوشش ادھوری رہ جاتی تھی،ہم نے فیصلہ کیا کہ اس سال 3ارب روپے کے وظائف دئیے جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے مالی مسائل اور مشکلات زیادہ ہیں،دعاہے کہ الیکشن کے بعد جو بھی حکومت آئے وہ انڈوومنٹ فنڈ مختص کرے،یہاں طالبعلم بیٹھے ہیں جو ملک میں انقلاب لاسکتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ اس فنڈ کو ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج صحرا اور خلیج میں چلے جائیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے،پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کو پاکستان کا فنڈ بنانا چاہیے تھا،اللہ نے ہمیں بہت زیادہ دولت دی زرخیز زمین، پانی ،پہاڑ اور معدنی وسائل دئیے۔ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کا فروغ سیاست نہیں بلکہ عبادت ہے،ہر قومیں محنت اور جدوجہد سے دنیا میںکامیاب ہوتی ہین،ہماری حکومت کی مدت 14اگست کو ختم ہوجائے گی۔نومبر یا اکتوبر میں انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن نے کرنا ہے،میری دعا ہے کہ جو بھی حکومت آئے وہ تعلیم کو پہلی ترجیح دے،اس کے بغیر ملک میں اندھیرے رہیں گے نہ آگے بڑھیں گے،
وزیر تعلیم کو سکلز ڈویلپمنٹ پر بھر پور توجہ دینے کی ہدایت کرتا ہوں، آج ہماری آئی ایم ایف بورڈ کے ساتھ میٹنگ ہے،دعا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری ہوجائے،باربار کہتا ہوں کہ یہ لمحہ فخریہ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے،یہ شادیانے بجانے والی بات نہیں،دکھی دل سے بات کرتاہوں کہ ہمسایہ ممالک ہم سے آگے چلے گئے، وہ زمانہ تھا کہ ہم ہمسایہ ممالک کا مقابلہ کرتے تھے،
چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے،چین نے محسوس کیا تھا کہ پاکستان مشکلات سے دوچار ہت،یہ زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ نہیں اسے بدلنا ہوگا،اب ہمیں آگے بڑھنا ہوگا،ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔









