بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے زیر سایہ "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ” کا نعرہ ایک دکھاوا بن کر رہ گیا ہے۔ کولکتہ لا کالج میں 24 سالہ طالبہ کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی نے نہ صرف ریاستی تحفظ کے دعوے جھوٹے ثابت کیے بلکہ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، جنوبی کولکتہ کے لا کالج میں دو سینئر طلبہ اور ایک سابق طالبعلم نے 25 جون کی رات طالبہ کو گارڈ روم میں بند کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد ملزمان نے متاثرہ لڑکی کو بلیک میل بھی کیا۔ طالبہ کے بیان، سی سی ٹی وی فوٹیج اور میڈیکل رپورٹ نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ واقعے کی خبر سب سے پہلے میڈیا تک پہنچی، نہ کہ پولیس یا کالج انتظامیہ کو، جس سے ادارے کی لاپروائی اور داخلی سیکیورٹی کی ناقص صورتحال ظاہر ہوئی۔ متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ واقعے کے وقت گارڈز سب کچھ دیکھتے رہے مگر کچھ نہ کیا۔
مرکزی ملزم منوجیت مشرا، جو ترنمول کانگریس طلبہ ونگ سے وابستہ ہے، اپنے سیاسی تعلقات کی بدولت اب تک قانون کی گرفت سے باہر ہے، جب کہ وائس پرنسپل کی سنگین غفلت نے حالات کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بھارت میں ہر سال 30,000 سے زائد ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور ہر گھنٹے تقریباً 43 خواتین جنسی ہراسانی کا نشانہ بنتی ہیں۔ حال ہی میں امریکا نے بھارت کے حوالے سے سفری وارننگ جاری کی ہے، جو خواتین کے لیے ملک کے غیر محفوظ ہونے کی عالمی سطح پر گواہی ہے۔
مودی حکومت کا نعرہ ’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ صرف ایک انتخابی نعرہ بن چکا ہے، جبکہ حقیقت میں خواتین کو نہ تحفظ حاصل ہے نہ انصاف۔









