• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
پیر, 2 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home انٹرنیشنل

کورونا کے بعد نیا ورلڈ آرڈر کیاہوگا؟

معاشی اور سیاسی حالات کیا ہونگے؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں

News Editor by News Editor
مارچ 24, 2020
in انٹرنیشنل, تبصرہ / تجزیہ
0 0
0

جب یہ وبا ختم ہو گی تواس دنیا  کے باسیوں کی کیا شکل ہو گی؟ عالمی سطح پر کیا معاشی اور سیاسی انقلاب آ چکے ہوں گے؟  

فارن پالیسی نے دنیا کے 12 بہترین مفکروں سے یہ سوال پوچھا ہے کی ان کے مطابق اس وبا کے بعد دنیا کی نئی شکل کیا ہوگی۔

سٹیفن ایم والٹ 

دنیا کی خوشحالی، کھلے پن اور آزادی میں کمی آئے گی

اس وبا سے ریاست اور قوم پرستی کو تقویت ملے گی، اس بحران کے دوران ایمرجنسی میں ملنے والے اختیار وبا کے ختم ہونے پر بھی ریاستیں ترک کرنے پر تیار نہیں ہوں گی۔

کورونا وائرس طاقت کے مراکز کو مغرب سے مشرق کی جانب شفٹ کر دے گا کیونکہ اب تک جنوبی کوریا اور سنگاپور نے اس کا بہترین انداز میں مقابلہ کیا ہے جبکہ چین کا ردعمل بھی بہتر رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور یورپ کا ردعمل سست اور افراتفری پر مبنی نظر آیا ہے جس سے مغرب کا قاتم کردہ تاثر دنیا میں متاثر ہو گا۔

جس طرح ماضی میں وباؤں کے باوجود عالمی طاقتوں کے درمیان مخاصمت قائم رہی تھی، کورونا وائرس بھی اسے ختم نہیں کر پائے گا اور نہ ہی دنیا عالمگیریت کی جانب سفر کر سکے گی، یہ صرف ریاستوں کو مضبوط کرے گی اور عالمگیریت کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

رابن نبلیٹ

عالمگیریت کی موجودہ شکل کا خاتمہ

اکیسویں صدی کا آغاز معاشی سطح پر عالمگیریت کے شور و غوغا میں ہوا تھا لیکن اسے کورونا وائرس بری طرح متاثر کرے گا، چین کی بڑھتی ہوئی فوجی اور تکنیکی ترقی نے امریکہ کو اس کے خلاف متحرک کر دیا ہے، وہ اپنے اتحادیوں کو بھی چین کی ترقی روکنے کے لیے ساتھ ملا لے گا۔

سیاسی قیادت کورونا وائرس اپنے شہریوں کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ اس نے وبا کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا ہے، جو رہنما ناکام رہیں گے وہ اس کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

کشور محبوبانی

چین عالمگیریت کا مرکز

کورونا وائرس دنیا کی معاشی سمت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لائے گا۔ عالمی معیشت کا رخ پہلے ہی امریکہ کی جگہ چین کی جانب ہو چکا ہے، موجودہ وبا اسے مزید تقویت دے گی۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکی عوام کا عالمگیریت اور بین الاقوامی تجارت پر ایمان اٹھ گیا ہے، جبکہ چین کا یہ معاملہ نہیں ہے۔ چینی قیادت سمجھ چکی ہے کہ 1842 سے 1949 کے دوران انہیں جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی وجہ خود کو دنیا سے الگ تھلگ رکھنے کی سوچ تھی۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے چینی معیشت کو عالمگیریت کی وجہ سے ترقی ملی ہے جس کے باعث ان کا اعتماد بڑھا ہے۔

اب امریکہ کے پاس دو راستے ہیں، اگر اس اپنی عالمی برتری برقرار رکھنی ہے تو اسے سیاسی اور معاشی سطح پر کھل کر چین کے مقابلے پر آنا پڑے گا۔ دوسری جانب اگر وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو اسے چین کے ساتھ تعاون کی راہ اپنانی پڑے گی۔

اگرچہ عقل و دانش یہی کہتی ہے کہ چین کے ساتھ تعاون ایک بہتر انتخاب ہے لیکن غالب امکان یہی ہے کہ امریکہ کی چین کی جانب موجودہ زہرآلود سیاسی فضا اس کے برعکس جانے کا فیصلہ کرے گی۔

جی جان آئیکن بیری

جمہوریت پسند اپنے خول سے باہر نکل آئیں گے

مختصر مدت کے لیے مغرب میں موجود مختلف نظریات رکھنے والے تمام گروہ کورونا کی وبا کے اثرات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تاہم جس قسم کے نقصانات سامنے آ رہے ہیں اس کے پیش نظر یہ بات یقینی نظر آتی ہے کہ امریکہ قوم پرستی اور سپر پاورز کی مخاصمت  کی طرف جائے گا۔

تاہم 1930 اور 1940 کی دہائیوں کی طرح ایک سست رفتار مخالف نظریہ بھی جنم لے گا جیسا کہ فرینکلن روزویلٹ اور دیگر سیاستدانوں نے دوسری جنگ عظیم کے قریب پیش کیا تھا۔ 1930 کی دہائی میں بین الاقوامی معیشت کی تباہی نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ  جدید معاشرے کس طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ جنگ کے بعد امریکی قیادت نے ایک نیا کھلا نظام ترتیب دیا تھا جس میں کے ذریعے بچاؤ کی نئی صورتیں اور باہمی انحصار کو ایک نظام کے تحت لانا مقصود تھا۔

کورونا وائرس کے بعد امریکہ اور دیگر مغربی جمہوریتیں شروع میں تو قوم پرستی کی طرف جائیں گی لیکن طویل المدت منظر نامے میں یہ اپنے خول سے باہر نکلیں گی اور عملیت پرستی اور خود حفاظتی بین الاقوامیت کی جانب ان کا سفر شروع ہو گا۔

کم نفع مگر زیادہ استحکام

شانن کے او نیل

کورونا وائرس اب عالمی مینوفیکچرنگ کے بنیادی اصولوں کو کھا رہا ہے اس لیے کمپنیاں اب اپنی سپلائی چین کو محدود کریں گی جو اس وقت مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔

عالمی سپلائی چین پہلے ہی تنقید کی زد میں تھیں اس اس کی بنیادی وجوہات میں اقتصادی سطح پر چین کی سستی لیبر، ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی جنگ، روبوٹ ٹیکنالوجی میں نئی اختراعات، خودکار نظام اور تھری ڈی پرنٹنگ اور سیاسی سطح پر حقیقی اور فرضی بیروزگاری شامل ہیں۔ کورونا وائرس نے اب اس زنجیر کی کئی کڑیاں توڑ دی ہیں کیونکہ متاثرہ علاقوں میں کارخانے بند ہونے سے دوسرے مینوفیکچرر اور ساتھ ساتھ اسپتال، فارمیسیز، سپرمارکیٹس اور دکانوں کو مصنوعات کی کمی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب کمپنیاں بھی یہ جاننے کا مطالبہ کریں گی کہ ان کی اشیا کہاں سے آ رہی ہیں۔ اسی طرح حکومتیں بھی مداخلت شروع کر دیں گی تاکہ تزویراتی اہمیت کی صنعتیوں کے لیے داخلی بیک اپ پلانز اور ذخائر موجود ہوں۔

اس سے نفع کم ہو جائے گا لیکن سپلائی کا استحکام بڑھ جائے گا۔

اس وبا سے آخرکار بہتری آ سکتی ہے

شیوشنکر مینن

پہلی بات یہ ہے کہ کورونا وائرس ہماری سیاست کو اندرونی اور بیرونی سطح پر تبدیل کر دے گا۔ اس وقت معاشرے ریاستی طاقت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

ابھی تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ تائیوان اور جنوبی کوریا کی جمہوریتیوں نے اس وبا کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا ہے جبکہ آمرانہ اور پاپولسٹ قیادتیں اس حوالے سے نمایاں کام نہیں کر سکیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ کورونا وائرس نے ثابت کر دیا ہے کہ دنیا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے تاہم اس وقت تمام ممالک اپنی بقا اور خودانحصاری کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم ایک غربت زدہ، خودغرضانہ اور چھوٹی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ امید اور اچھائی کی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بھارت نے سارک ممالک کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا آغاز کیا ہے جس میں جنوبی ایشیاء کے ساتھ مل کر اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی خواہش ابھری ہے۔

امریکہ کو نئی حکمت عملی کی ضرورت پڑے گی

جوزف ایس نائے

2017 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی نیشنل سیکیورٹی سٹریٹجی کا اعلان کیا جس کا فوکس بڑی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ کرنا تھا، کورونا وائرس نے دکھا دیا کہ یہ حکمت عملی کسقدر غیرمناسب تھی۔

امریکہ اگر سپر پاور کے طور پر غالب بھی رہے تب بھی وہ اپنی حفاظت اکیلے نہیں کر سکتا۔ رچرڈ ڈینزگ نے 2018 میں کہا تھا کہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی نہ صرف اپنی تقسیم میں عالمی نوعیت کی ہے بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے بھی عالمگیریت کی حامل ہیں۔ جرثومے، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر وائرس اور تابکاری ایسے معاملات ہیں جو حادثاتی طور پر پھیل سکتی ہیں اور وہ سب کا مسئلہ بن سکتی ہیں۔

کورونا وائرس اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے خطرات کے معاملے میں امریکہ کی دوسروں پر برتری کے انداز میں نہیں سوچا جا سکتا۔ کامیابی کی کلید اس بات میں پنہاں ہے کہ دوسروں کے ساتھ طاقت کے اشتراک کا سبق سیکھا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ملک اپنے مفادات پہلے دیکھتا ہے مگر اہم سوال یہ ہے کہ مفادات کی تعریف کسقدر تنگ نظری سے یا وسیع النظری سے کی جاتی ہے۔

کورونا وائرس نے دکھا دیا ہے کہ ہم امریکی ایک نئی دنیا کے ساتھ اپنی حکمت عملی کو ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

کورونا وائرس کی تاریخ صرف فاتحین لکھیں گے

جان ایلن

کورونا وائرس کے بحران کی تاریخ فاتحین لکھیں گے، ہر قوم، اور دھیرے دھیرے ہر فرد، ایک نئے اور طاقتور انداز میں اس وبا کے دباؤ کا تجربہ کر رہا ہے۔

یہ بات ناگزیر ہے کہ بہتر سیاسی، معاشی اور طبی سہولیات رکھنے والے ممالک ان کے مقابلے میں کامیاب ٹھہریں گے جو اس وبا کے مختلف اور تباہ کن نتائج کا سامنا کریں گے۔

کچھ لوگوں کے لیے یہ جمہوریت، کثیرالجہتی اور عالمی ہیلتھ کئیر نظام کی فتح ہے جبکہ دوسرے اسے فیصلہ کن اور آمرانہ کے فوائد واضح ہیں۔

جو بھی ہو، یہ بحران بین الاقوامی پاور اسٹرکچر میں بڑی تبدیلی لائے گا۔ آغاز میں معیشت کی رفتار کم ہو گی اور مختلف ممالک کے درمیان ٹینشن بڑھے گی۔ ایک طویل عرصے تک عالمی معیشت کی پیداواری صلاحیت کم ہو گی۔ عالمی نظام شدید دباؤ میں آ جائے گا جس کے باعث ملکوں کے اندر اور ان کے درمیان عدم استحکام پیدا ہو گا۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ایک نیا ڈرامائی مرحلہ

لاری گیرٹ

کورونا وائرس کے طویل المدت اثرات ہوں گے اور یہ عالمی معیشت میں بنیادی تبدیلیاں لائے گا۔

عالمگیریت کی رو میں مختلف کمپنیوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مینوفیکچرنگ کا کام پھیلایا ہوا تھا تاکہ مارکیٹس میں اپنی مصنوعات فوری طور پر بھیج سکیں۔ کورونا وائرس نے نہ صرف انسانوں کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے نظام کو ہی زہرآلود کر دیا ہے۔

مزید ناکام ریاستیں

رچرڈ این ہاس

کورونا وائرس کے باعث اگلے کئی برسوں کے دران ممالک کی توجہ اپنے اندر مرکوزرہے گی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی شدید مخالفت ہو گی اور علاقائی یا عالمی مسائل کے حل کی خواہش اور ارادہ کمزور پڑے گا۔ سب ممالک اپنی تعمیر نو اور بحران کے معاشی نتائج سے نمٹنے پر اپنے وسائل صرف کریں گے۔

اندازہ یہی ہے کہ بہت سے ممالک کو اس بحران سے باہر آنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا جس کے نتیجے میں ریاست کمزور ہو گی اور ناکام ریاستوں کی تعداد بڑھے گی۔

کورونا وائرس کی وبا کے نتائج میں امریکہ چین تعلقات میں خرابی اور یورپی ممالک کے اتحاد میں کمزوری شامل ہوں گے۔

امریکہ قیادت کے امتحان میں ناکام ہوا ہے

کوری شیک

اپنے محدود ذاتی مفادات اور بڑھتی ہوئی نااہلیت کے باعث امریکہ بین الاقوامی قائد کے طور پر مزید نہیں دیکھا جائے گا۔ اس وبا کے بین الاقوامی اثرات کو کم کیا جا سکتا تھا اگر عالمی تنظیمیں وقت پر زیادہ معلومات فراہم کرتیں جس سے مختلف ممالک کو تیاری کے لیے وقت مل جاتا۔

یہ کام امریکہ کر سکتا تھا مگر وہ قیادت کے اس امتحان میں ناکام ہوا ہے۔

ہر ملک میں انسانی روح کی طاقت دیکھی جا سکتی ہے

نکولس برنز

کورونا وائرس اس صدی کا سب سے بڑا بحران ہے، اس کی گہرائی اور وسعت بہت زیادہ ہے۔   پبلک ہیلتھ کے بحران سے دنیا کے 7.8 ارب لوگوں میں سے ہر ایک کو خطرہ لاحق ہے۔

اگر دنیا کی دو بڑی طاقتیں، امریکہ اور چین، اس موقع پر بھی لفظی جنگ سے باز نہیں آ رہیں تو ان دونوں کی ساکھ بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اگر یورپی یونین اپنے 50 کروڑ شہریوں کو مدد فراہم نہیں کر سکتیں تو مستقبل میں قومی حکومتیں برسلز سے مزید اختیارات واپس لے سکتی ہیں۔

تاہم ہر ملک کے اندر انسانی روح کی بے شمار مثالیں سامنے آئی ہیں، ڈاکٹرز، نرسوں، سیاسی رہنماؤں اور عام آدمی نے لچک، موثرپن اور رہنمائی دکھائی ہے۔

اس سے امید پیدا ہوتی ہے کہ دنیا کے مرد اور خواتین اس غیرمعمولی چیلنج کے جواب میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Previous Post

Lawyers will appear for limited work in courts Lahore Bar Association

Next Post

کیمپ جیل لاہورمیں کورونا کا پہلا کیس سامنے آگیا

News Editor

News Editor

Next Post

کیمپ جیل لاہورمیں کورونا کا پہلا کیس سامنے آگیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading