امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے افغانستان سے 2021 میں ہونے والے امریکی فوجی انخلا اور کابل ایئرپورٹ کے خونی حملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ وہ سانحہ تھا جس میں 13 امریکی فوجی اور 170 سے زائد افغان شہری جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ درجنوں شدید زخمی ہوئے تھے۔
پیٹ ہیگستھ، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے اس انخلا کو "شرمناک اور تباہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ تمام حقائق کو سامنے لایا جائے۔ ان کے مطابق نئی تحقیقات میں متاثرین، فوجی اہلکاروں اور متعلقہ افسران کے انٹرویوز لیے جائیں گے اور فیصلہ سازی کے پورے عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل پینٹاگون، یو ایس سینٹرل کمانڈ، امریکی محکمہ خارجہ اور کانگریس کی سطح پر بھی کئی تحقیقات ہو چکی ہیں، جن میں وسیع پیمانے پر ویڈیوز، تصاویر اور دیگر شواہد کا تجزیہ شامل تھا۔ تاہم، نئی تحقیق کے دائرہ کار اور مقاصد کے بارے میں تاحال مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کابل ایئرپورٹ پر دہشت گرد حملے میں فوجیوں کی ہلاکت اور اربوں ڈالر مالیت کے امریکی ساز و سامان کے نقصان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ ایئرپورٹ کے "ایبی گیٹ” پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے تھے۔ ہزاروں افغان شہری امریکی طیاروں کے ساتھ چمٹ کر ملک چھوڑنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے تھے، جن میں سے کئی دورانِ پرواز گر کر ہلاک ہو گئے تھے۔
2023 میں ایک میرین افسر نے انکشاف کیا تھا کہ حملے سے قبل ایک اسنائپر نے مشتبہ خودکش بمبار کو دیکھا تھا لیکن اسے فائرنگ کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر شدید بحث چھڑ گئی تھی۔









