چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم پہلی بار پاک بھارت جنگ کے بعد ایک ساتھ نظر آئے۔ مبصرین کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کے استقبال میں نمایاں گرمجوشی اور عزت افزائی دیکھی گئی، جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خیرمقدم کا انداز خاصا سادہ اور کم پرجوش تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف کو تیانجن ایئرپورٹ پر ریڈ کارپٹ، گارڈ آف آنر اور اعلیٰ چینی حکام کی موجودگی میں خوش آمدید کہا گیا۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے اس استقبال کو ’’فاتحانہ‘‘ قرار دیا، جبکہ بھارتی سوشل میڈیا پر مودی کے پھیکے استقبال پر تنقید دیکھنے کو ملی۔
صارفین کا کہنا تھا کہ چین میں پاکستانی وزیراعظم کو جو پروٹوکول دیا گیا وہ اس بات کا اعتراف ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے۔ کچھ صارفین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’رافیل گرانے والوں کا استقبال ایسا ہی ہونا چاہیے‘‘۔
مودی نے اس دوران ترک، آذربائیجان اور چین کے صدور سمیت پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ایک مشترکہ عشائیے میں شرکت کی، جنہیں بھارتی سوشل میڈیا پر یاد دلایا گیا کہ یہ ممالک جنگ میں پاکستان کے حامی تھے۔









