میاں جاوید لطیف

چیئرمین سینیٹ کو سینیٹ سے بل پاس سے جو مراعات دی گئی ہیں وہ نہیں ملنی چاہیے،میاں جاوید لطیف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو سینیٹ سے بل پاس کر کے جو مراعات دی گئی ہیں وہ نہیں ملنی چاہیے میں اس کی مذمت کرتا ہوں چیئرمین سینیٹ کو چاہیے کہ وہ یہ مراعات نہ لیں اور نہ آنے والوں کو لینے دیں،

تنخواہوں کی طرح پنشن بھی 35فیصد بڑھائی جائے یہ قابل قبول نہیں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا میاں جاوید لطیف نے کہاکہ کل جو میثاقِ معیشت ہوا اس پر عوام خوش ہے دیر آئے صیحیح مگر یہ کام ہو۔ پاکستان کی معیشت سے نہ کھیلاجائے۔ اگر اربوں روپے کھانے والے نوٹس کے بغیر رہا کردیا جائے تو وقت کے قاضی سے تو سوال بنتا ہے ۔

محافظ جانیں دیتے ہیں کبھی قوت کے استعمال سے ذہنوں کو ٹھیک نہیں کرسکتے جو پچھلے 4سال سے بنائے گئے اس میں سابقہ اسٹیبلشمنٹ، قاضی اور میڈیا کے لوگ شامل تھے ۔موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری ہے ۔ پریس کانفرنس کا انتظام کرنے والے دیر کررہے ہیں قوم۔کی حقیقت بتائی جائے ۔دفاعی ادارے کے ایکس مین کے بارے میں قوم کو بتایا جائے ۔ ہم کوئی ریلیف نہیں چاہتے ہیں وہ جو جانتے ہیں وہ بیان کریں تاکہ نوجوان کا ذہن صاف ہواس کے بغیر یہ ذہن صاف نہیں ہوگا 8مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو بری کیا جائے گا تو انصاف کہاں ہوگا ۔

آپ سابق چیف جسٹس کو ہکڑنے اور کٹہرے میں کھڑے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ کیاایسے حالات میں چیئرمین سینیٹ کو دی گئی مرعات نہیں ملنی چاہیے میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ تنخواہوں کی طرح پنشن بھی 35فیصد بڑھائی جائے یہ قابل قبول نہیں ہے سینیٹ کے چیئرمین اس کو واپس لیں۔

ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ کے پی کے کے جنوبی اضلاع میں بارش طوفان سے سولر سسٹم بھی متاثر ہوئے ہیں پی ڈی ایم اے اور این ڈی؛ ایم اے اپنے لسٹ میں سولر سسٹم کو بھی شامل کریں تاکہ ان کو ریلیف مل جائے۔ چوہدری عابد رضا نے کہا ہے کہ یہ بجٹ درمیانے درجے کا بجٹ ہے آج تک کوئی حکومت مثالی بجٹ پیش نہیں کر سکی میں دس سال سے اس اسمبلی کا حصہ رہا ہوں لیکن صرف تقریریں ہوتی ہیں عملی کچھ نہیں ہوتا پارلیمنٹ کو سنجیدہ ہونا پڑے گا ۔

اپنا تبصرہ لکھیں