کیمبرج کے فٹزولیم میوزیم میں نمائش کے لیے تیار کی جانے والی ایک قدیم مصری شے پر اچانک ایک ایسا ہاتھ کا نشان سامنے آگیا جو چار ہزار سال سے نظروں سے اوجھل تھا۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ نشان ممکنہ طور پر اس کاریگر کا ہے جس نے یہ مٹی سے بنا ماڈل تیار کیا تھا اور اسے سوکھنے سے پہلے چھو لیا تھا۔
سینئر ایجپٹولوجسٹ ہیلن اسٹرڈوک کا کہنا تھا کہ اگرچہ ماضی میں تابوتوں پر انگلیوں کے نشان ملے ہیں، لیکن مکمل ہاتھ کا نشان ملنا ایک نایاب اور غیر معمولی واقعہ ہے، جو ہمیں ہزاروں سال پہلے کے انسانی احساس سے جوڑتا ہے۔
یہ دریافت نہ صرف آثارِ قدیمہ کی دنیا میں دلچسپی کا باعث بنی ہے بلکہ یہ اس دور کے فن اور انسانیت کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔









