اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔ یہ درخواستیں صحافتی تنظیموں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں متنازع ایکٹ کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے فریقین سے ایکٹ کی قانونی حیثیت اور اس میں کی گئی ترامیم سے متعلق تفصیل طلب کی۔ عدالت نے پی ایف یو جے کے وکیل ڈاکٹر یاسر امان خان سے کہا کہ وہ ترمیمی ایکٹ اور اصل 2016 کے قانون میں فرق واضح کریں اور ساتھ ہی ضابطۂ اخلاق کی نوعیت بھی بتائیں۔
ڈاکٹر یاسر امان خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ 2016 میں نافذ ہونے والا اصل پیکا ایکٹ کئی متنازع نکات پر مشتمل تھا، مگر 2025 کی ترمیم نے مزید پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا کمپلینٹ کونسل کے اضافے نے شہری آزادیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حکومتی وکیل نے موقف اپنایا کہ درخواست میں صوبائی حکومتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے، جس پر رجسٹرار آفس نے ابتدائی طور پر اعتراض اٹھایا تھا، تاہم وہ اعتراض اب ختم ہو چکا ہے۔
عدالت نے درخواست گزار وکلا کو مکمل دلائل جاری رکھنے کی اجازت دی ہے اور آئندہ سماعت میں مزید نکات پر بحث کی جائے گی۔









