پنجاب میں سیلابی صورتِ حال تشویشناک شکل اختیار کر گئی ہے اور دریائے ستلج و دریائے راوی میں پانی کی بلند سطح نے ملتان اور قصور کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔ متاثرہ اضلاع سے لاکھوں افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ بلوچستان بھی ممکنہ تباہ کن سیلاب کی زد میں آ چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریاؤں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ اب بھی 3 لاکھ کیوسک سے زیادہ ہے، جس کے باعث قصور اور گرد و نواح میں صورتحال انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں اور حکام نے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔









