پاکستان اور افغانستان کے درمیان زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے مخصوص زرعی اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ارلی ہارویسٹ پروگرام کے تحت کیے گئے اس معاہدے کے مطابق، پاکستان افغانستان کے ٹماٹر، انگور، انار اور سیب پر 5 سے 26 فیصد تک ڈیوٹی میں نرمی کرے گا، جبکہ افغانستان پاکستانی آلو، کیلے، کینو اور آم پر 20 سے 35 فیصد تک ڈیوٹی کم کرے گا۔
وفاقی کابینہ نے وزارتِ تجارت کی سمری سرکولیشن کے ذریعے منظور کر لی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جلد جاری ہوگا۔ یہ رعایتیں یکم اگست 2025 سے 31 جولائی 2026 تک نافذ العمل رہیں گی۔ ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک مستقبل میں ایک جامع ترجیحی تجارتی معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز بھی کریں گے، جس کی بنیاد اس پروگرام کی کارکردگی پر ہوگی۔









