اسلام آباد(نیوز رپورٹر )وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے بجائے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی پیشکش کردی اور کہا ہے کہ مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے صدق دل سے تیار ہوں، میں چاہتا ہوں مذاکرات آگے بڑھیں، ہماری کمیٹی نے کہا ہے کہ ہم جواب لکھ کر دیں گے۔
ان خیالا ت کا اظہار وزیر اعظم نے جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کو شفاف انداز سے قبول کیا، حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنیں اور پھر اسپیکر کے توسط سے مذاکرات شروع ہوگئے ۔
رواں ماہ کی 28 تاریخ کو میٹنگ ہونی تھی اور وہ مذاکرات سے بھاگ گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد میں احتجاجا کالی پٹیاں باندھ کر ایوان میں داخل ہوا تو عمران خان نے آگے بڑھ کر مجھے کہا کہ ہم پارلیمانی کمیٹی بنارہے ہیں جو انتخابات کی تحقیقات کرے گی، انہوں نے ہم سے کمیٹی کے لیے نام مانگے اور کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا، کمیٹی تو بنی مگر وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، کمیٹی ضرور بنی ہوگی، ایک آدھ اجلاس بھی ہوا ہوگا مگر باقی سب تاریخ کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے ان کو کہا آپ آئیں لکھ کر جواب دیں گے، ہم نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا، یہ اپنے گریبان میں بھی جھانکیں، انہوں نے 2018 میں ہاﺅس کمیٹی بنائی ،کمیشن نہیں بناتھا۔وزیراعظم نے اپوزیشن کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پوری طرح حقائق کو سامنے لائیں، 2018 میں ہم نے ہاﺅس کمیٹی قبول کی آپ بھی آئیں 2018 اور 2024 کے انتخابات پر کمیٹی بنے، 26 نومبر کے دھرنے کی بات کرتے ہیں، 2014 کے دھرنے کی بھی ہاﺅس کمیٹی احاطہ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نیک نیتی کے ساتھ تیار ہوں کہ ڈائیلاگ آگے بڑھیں، انتشار کے ہاتھوں ملک کا بہت نقصا ن ہوا ،یہ ملک مزید نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ افواج پاکستان کے جوانوں نے خوارج کا مقابلہ کیا، پاک فوج کے جوانوں نے خارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، پاک فوج کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، افواج پاکستان،رینجرز ،پولیس اور سکیورٹی اداروں کی ملک کیلئے لازوال قربانیوں کی ایک داستان ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر روز خوارج ،دہشتگردوں کا مقابلہ کیا جارہا ہے، ایک شہید کے والد کو خود ملا، ان کے حواصلے بہت بلند تھے، ہمیں ہر روز بہادری اور دلیری کی داستانیں سننے کو ملتی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کا اعلان کیا، میرے حساب سے پالیسی ریٹ میں کم از کم 2فیصد کمی ہونی چاہیے تھی، پالیسی ریٹ میں کمی سے صنعت اور کاروبار کو فائدہ ہوگا، ہم دن رات کاوشیں کررہے ہیں، ترقی و خوشحالی کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ انسانی سمگلنگ کے دھندے میں سیکڑوں پاکستانیوں کی جانیں گئیں، کالے دھندے کے نتیجے میں پاکستان کے چہرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، کل انسانی سمگلنگ کے معاملے پر ایک اور میٹنگ کی تھی، انسان سمگلرز نے پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جب تک مکمل تحقیقات نہیں ہوتیں چین سے نہیں بیٹھیں گے۔









