واشنگٹن(انٹرنیشنل نیوز)وائٹ ہائوس کے ایک عہدہ دار نے بتایا ہے کہ اوپیک نے تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان سے قبل امریکی حکام کو اپنے فیصلہ سے مطلع کردیاتھا.
لیکن اس عہدہ دار نے کہاہے کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ حیران کن فیصلہ کیوں کیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہائوس کی قومی سلامتی کونسل میں تزویراتی ابلاغیات کے رابطہ کارجان کربی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلہ کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔
ان خبروں کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ تیل کی یومیہ پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ پیٹرولیم کے تزویراتی ذخائرکوفوری طور پربھرنے میں امریکاکی ناکامی سے متعلق ہے،جان کربی نے کہاکہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ میں یہ قیاس آرائی بھی نہیں کر سکتا کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا ہے۔کربی نے کہا کہ مارکیٹ کی غیریقینی صورت حال کے پیش نظراس موقع پرتیل کی پیداوار میں کٹوتی مناسب نہیں ہے اورامریکا نے یہ بات اوپیک پرواضح کردی ہے۔انھوں نے کہا کہ وائٹ ہائوس کی توجہ صارفین پر ہے نہ کہ بیرل پر اور وہ تیل پیداکنندگان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا اور صارفین کے لیے کم قیمتوں کو یقینی بنانے کی غرض سے کام کرتا رہے گا۔









