تہران — ایران کے ایک ممتاز صحافی اور سابق فوجی ترجمان عبداللہ گنجی نے حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی میں سائنسی اور عسکری وسائل سے ہٹ کر روحانی اور مافوق الفطرت ذرائع کا بھی سہارا لیا۔
گنجی کے مطابق، تہران کی گلیوں اور اہم علاقوں میں کچھ ایسے کاغذی ٹکڑے، تعویذ اور علامتیں برآمد ہوئیں جن پر یہودی رسوم و رموز درج تھے اور جن کا مقصد مبینہ طور پر ایران کے خلاف "روحانی حملے” کرنا تھا۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں گنجی نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں نیتن یاہو کی بعض روحانی ماہرین سے ملاقاتوں کی خبریں بھی سامنے آئیں، جس سے شبہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی قیادت نے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جادو اور ماورائی قوتوں پر بھی انحصار کیا۔
اس پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے فارسی اکاؤنٹ نے طنزیہ انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"نہ تو جنات جنگ جیتتے ہیں، اور نہ تعویذ میدانِ جنگ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ اگر کوئی وزیرِاعظم منشیات کے زیر اثر ہو کر ایسی حرکات کرے تو یہ قومی المیہ ہے، روحانی فتح نہیں









