• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home تبصرہ / تجزیہ

نوری بمقابلہ ناری

پولیس ریفارمز میں ڈی پی او کو ڈی سی کے ماتحت کرنے کی بات ہوئی تو یہ نوری پی ایس پی کلاس استیفعیٰ دینے کو تیار ہو گئی

News Editor by News Editor
نومبر 10, 2019
in تبصرہ / تجزیہ, کرائم اینڈ کورٹس, ہماری خبر
0 0
0

تحریر: عزیز خان ایڈوکیٹ

کُچھ دن پہلے ایک ویڈیو نظر سے گُزری جس میں  کرپشن کے ملزم حمزہ شہباز نے ایک psp ایس پی کو اُنگلی دیکھائی اور وارنگ دی خبردار اور وہ Sp بھیگی بلی بن گیا دو دن پہلے حکمران خاندان کے فرزند علی گیلانی جو کہ سابقہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا ہے اور جس کے ساتھ مسلحہ گن مین تھے نے Dpo مظفرگڑھ کو اُنگلی دیکھائی خبردار ہمارے راستے میں نہ آنا اور Dpo جس کے ساتھ کافی پولیس تھی بھیگی بلی بن گیا ؟

میں اس بات پہ حیران ہوں کہ یہ وہ نوری قوم ہے جو غریبوں اور ناری ماتحتوں کے لئیے ھلاکو خان سے کم نہیں ہوتے مگر ان سیاستدانوں کے سامنے کیسے بھیگی بلی بن جاتے ہیں

پولیس ٹرینگ میں  ہمیں ہمارے پریڈ کے اُستاد دوڑاتے ہوئے سہالہ کالج کا تعارف کروا رہے ہوتے تھے اور ساتھ بتا رہے ہوتے تھے کہ یہ ہے کینٹین ، یہ ہے اصطبل ، یہ ہے اقبال ہوسٹل پھر ہمیں دور سے دیکھایا گیا کہ یہ ہے کمانڈنٹ اور ڈیپٹی کمانڈنٹ کا گھر یہ علاقہ ٹرینی کے لئیے (آوٹ آف باونڈ )ہے اور اس طرف جانے کی سزا ملازمت سے بر خواستگی ہے اور  ہم تمام ٹرینی سوچ رہے تھے کہ یہاں کون سی نوری مخلوق رہتی ہو گی جہاں صرف جانے کی سزا نوکری سے برخواستگی ہوگی؟

آگے بڑھے تو اچانک ہمیں حُکم ہوا سب خاموش ہو جائیں ہم ڈر کے مارے خاموش ہو گئے تو ہمیں بتایا گیا کہ یہ (ساردا میس )ہے اور یہاں اے ایس پی صاحبان کی رہایش گاہ ہے اس طرف بھی آنا منع ہے۔ (اُن دنوں نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں نہیں ہوتی تھی ) جب ہم پریڈ کر رہے ہوتے تھے اور ہمیں بے عزت کیا جا رہا ہوتا تھا تو پریڈ کے آخری لمحات میں ایک کوسٹر آ کر رُکتی تھی جس میں سے Asp صاحبان اترتے تھے ڈرل انسٹریکٹر اُنہں پہلے سلوٹ کرتا تھا بعد میں اُن سے باتیں کرتا نظر آتا تھا

پریڈ کرتے ہوئے ایک کا ھاتھ دوسرے سے نہیں ملتا تھا مگر انسٹریکٹر واہ واہ کر رہا ہوتا تھا اُس کی جُرت نہ ہوتی تھی کہ اُنہیں کُچھ کہتا کہ آپ پریڈ درست نہیں کر رہےان میں سے اکثر Asp’s کے قد بُہت چھوٹے تھے اور چھاتی بھی کم لگتی تھی حالانکہ ہمارے لئیے قد اور چھاتی کا معیار الگ تھا اور ان کے لیے الگ تھا اور یہ وہ نوری مخلوق تھی جن کی ہم ناریوں کو غلامی سیکھائی جا رہی تھی جو ہم نے پوری سروس کرنی تھی۔ پولیس ٹرینگ میں ہم نے صرف غلامی سیکھی صاحب کے آگے نہیں جانا صاحب  جانا ،صاحب کے سامنے نہیں بولنا   ،صاحب جو کہیں تعمیل حُکم کرنی ہے

ضلع میں آکر بھی اسی طرح ڈرایا جاتا رہا صاحب کا اردل روم ہے صاحب کی پیشی ہے ، تعمیل حُکم کرنی ہے چاہے جائز ہو یا ناجائیز ہو  اور پھر ہم نے وہی کرنا شروع کر دیا جو ہمیں حکم دیا جاتا تھا  یعنی تعمیل حکم؟

مجھے آج بھی یاد ہے ٹرینگ کے بعد پولیس لائین بہاولپور میں بڑا کھانا تھا پولیس والے بڑا کھانے کا مطلب سمجھتے ہیں مگر جو دوست نہیں جانتے اُن کے لئیے بس اتنا بتا دیتا ہوں کہ ہمارے بڑے نوری افسران جب ناریوں (ماتحتوں)پر خوش ہو جائیں تو سرکاری پیسوں سے کُچھ ملازمین کو کھانا کھلا دیتے ہیں  اُس کھانا میں ہاشم بخاری ASI بھی تھے جب کھانے پر بلایا گیا تو اندر ایک میز الگ لگائی گئی تھی جس پر صرف نوری افسران نے کھانا تھا میز پر پڑا کھانا اُس کھانے سے بہت مختلف تھا جو باقی ماتحت ملازمین کے لئیے تھا میز پر منرل واٹر ، پیپسی سیون اپ کے کین صاف پلیٹیں چھری کانٹے چمچے صاف محسوس ہوتا تھا کہ کسی بڑے صاحب کا انتظار ہو رہا ہے

میں اور ہاشم بخاری بھی خود کو بڑا آفسر سمجھتے ہوئے اسی میز پر جا کر کھڑے ہو گئے ابھی میں نے پلیٹ نہیں اُٹھائی تھی کہ ایک انسپکٹر دوڑتا ہوا آیا اور بولا آپ یہاں کھانا نہیں کھائیں گے یہ میز صرف بڑے صاحبوں کے لئیے ہے ہاشم بخاری بولا ہم بھی آفسر ہیں تو مجھے انسپکٹر کی وہ طنزیہ مسکراہٹ آج بھی یاد ہے جیسے کہہ رہا ہو ” یہ مُنہ اور مسور کی دال” میں نے اپنی پلیٹ میز پر رکھی اور پنڈال سے باہر آگیا ہاشم بخاری بھی باہر آگیا ہم نے کھانا نہیں کھایا یہ وہ پہلی تذلیل تھی جو ضلع میں ہوئی اور یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ ہم ناری ہیں

ماہانہ کرائیم میٹنگ میں بھی یہی سلوک صاف نظر آتا تھا جب ڈی پی او اور اے ایس پی کے سامنے چائے باوری اردلی بڑے سلیقے سے رکھتا تھا منرل واٹر کی بوتل اور گلاس رکھا جاتا تھا جبکہ Dsp سمیت  باقی ملازمین کے سامنے چائے عام سے کپوں میں رکھی جاتی تھی اسی طرح سٹیل والے جگ اور گلاسوں میں پانی پلایا جاتا تھا

ڈی ایس پی بننے کے بعد یہ احساس اُس وقت شدید ہو گیا جب 2010 میں  مجھے جڑانوالہ سے صرف اس لئیے تبدیل کر کے اے ایس پی کو لگا دیا گیا کہ وہ اچھا سرکل تھا رہایش اچھی تھی دفتر اچھا تھا مجھ سے ایک دفعہ بھی نہیں پوچھا گیا نہ بتایا گیا کہ میرا قصور کیا ہے میرا تبادلہ کیوں کیا گیا کیونکہ میں ناری تھا؟(یہاں یہ بات ذہین میں رکھیں کہ Asp سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے کہاں پوسٹنگ کروانی ہے اسی طرح چند مخصوص سرکل ہیں جہاں Asp,s کو تعینات کیا جاتا ہے)

اپنی ایمانداری کا ڈھنڈورا پیٹے والے سکیل 17 کے ایک Asp کی تنخواہ 55000 ہے اور 18 سکیل کے Sp کی تقریباً 75000 ہے اگر یہ ایماندار ہیں تو ان کے بقیہ اخرجات کہاں سے پورے ہوتے ہیں کروڑوں روپے کے فنڈز ان کے اختیار میں ہوتے ہیں ان کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا نہ کسی کی پوچھنے کی جرت ہے ؟

پچھلے دنوں جب پولیس ریفارمز میں  Dpo کو Dc کے ماتحت کرنے کی بات ہوئی تو یہ نوری psp کلاس استیفعیٰ دینے کو تیار ہو گئی تھی ان کے اجلاس ہوتے رہے اور حکومت نے بے بس ہو کر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیے لیکن اگر یہی کام ناری ماتحت کرتے تو جوتے کھاتے اور نوکری سے بھی جاتے ؟

کرپشن کرنے کے باوجود ایک SHO یا Dsp ایک پوسٹنگ کے بعد اپنا گھر نہیں بنا سکتا مگر ایک Dpo ایک پوسٹنگ کے بعد ڈیفنس لاہور میں اپنا گھر ضرور بنا لیتا ہے اور ریٹائرمنٹ پر ان کے کراچی لاہور اسلام آباد میں بنگلے پیٹرول پمپ ہوتے ہیں ان کے بچے غیرمُلکی مہنگی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں

اگر مجھ پر یقین نہیں تو کسی بھی ضلع کے Dpo آفس کے اکاونٹنٹ کو پکڑ لیں تو سب بتا دے گا یہ اکاونٹنٹ ایک ہی ضلع میں ملازمت کرتے ہیں اور وہیں سے ریٹائیر ہو جاتے ہیں ان کی بھی کروڑوں کی جائیدادیں ہوتی ہیں

یہی حال لاہور CPO کا ہے یہاں کا کلرک مافیا جو ان افسران کی کرپشن میں مدد گار ہے ان کا تبادلہ بھی کہیں نہیں ہوتا سالوں سے یہ مافیا Cpo پر قابض ہے اور یہ کماو پوت ان افسران کی آنکھوں کا تارا ہیں

ویسے تو اب ہر روز پولیس عوام اور سیاستدانوں سے جوتے کھاتی نظر آتی ہے مگر وہ ماتحت پولیس ملازمین ہوتے ہیں مگر جب خود کو نوری سمجھنے والے یہ افسران اس طرح اپنی نوکری بچانے کے لیے بُزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ سوال ضرور اُٹھتا ہے اگر ماتحت ملازم کو بُزدلی کرنے پر سزا ملتی ہے تو اس نوری کلاس کو کیوں نہیں ؟

 

نوٹ:قلم کلب ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ newsdesk@qalamclub.com پر ای میل کیجیے۔

 

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: CSPDMGdspIGP Policepolice officersPSPpunjab policeRanker officesRankers
Previous Post

میاں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے خارج،اب بیرون ملک جا سکیں گیں

Next Post

ساڈھا حق ایتھے رکھ

News Editor

News Editor

Next Post

ساڈھا حق ایتھے رکھ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading