راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے واضح کیا ہے کہ نواز شریف سے کسی ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا بیانیہ عوام تک پہنچانا ہی ہماری اصل ذمہ داری ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف کو جیل میں خصوصی سہولیات دی گئیں، جبکہ عمران خان کو ایک چھوٹے سے چکی نما کمرے میں قید رکھا گیا ہے۔ علیمہ نے کہا کہ "نواز شریف ریسٹ ہاؤس میں تھے، اور بانی چیئرمین کو تو کتابیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت نے آئندہ تحریک کا خاکہ تیار کر لیا ہے، جو عاشورہ کے بعد شروع کی جائے گی۔ "یہ چور حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، اور ہمارے بانی کو طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔” علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو دس ماہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "جس شخص کو اس کی پارٹی اور خاندان تک لفٹ نہیں کرا رہا، اس سے بانی چیئرمین کا کیا تعلق؟”
عدالت سے متعلق بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ صادق آباد احتجاج کیس میں ان کی عبوری ضمانت میں 16 جولائی تک توسیع ہو گئی ہے، جب کہ عالیہ حمزہ اور سیمابیہ طاہر کی عبوری ضمانتیں بھی 16 جولائی تک بڑھا دی گئی ہیں۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کی ہے۔









