اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سابق وزیر عمر ایو ب نے کہاہے کہ ملک میں پیسہ نہیں ہے اور حکومت اعداد وشمار کے ہیرپھیر پر انحصار کر رہی ہے۔
اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ سال 2024 کے بجٹ کے لیے موجودہ حقائق سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت اور معاشی صورتحال کس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور غیر فعال ہے۔ انہوںنے کہاکہ سود کی مد میں 5300 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ صوبوں کو ان کے واجب الادا فنڈز دینے کے بعد دستیاب ریونیو 5032 ارب روپے ہے۔ عمر ایوب نے کہاکہ تنخواہ، دفاعی اخراجات، ترقیاتی اخراجات کی ادائیگی کے لئے رقم کہاں سے آئے گی۔ انہوںنے کہاکہ یہ ایک بہت بڑا مالیاتی خسارہ ہو گا، یہ سب نئے قرضوں کے ساتھ اور آئی ایم ایف پروگرام کی غیر موجودگی میں کرنا ہو گا۔ سابق وزیر نے کہاکہ ملک میں پیسہ نہیں ہے اور حکومت اعداد وشمار کے ہیرپھیر پر انحصار کر رہی ہے۔
انہوںنے کہاکہ نتیجے میں مزید مہنگائی، بے روزگاری،مزید صنعتیں بند، بینک لیکویڈیٹی کے مسائل جنم لیں گے ۔ عمر ایوب نے کہاکہ توانائی کا بحران، روپیہ کی مزید گراوٹ اور غیر فعال قرضوں کے ساتھ بینکنگ بحران بھی ممکن ہے۔ انہوںنے کہاکہ منفی جی ڈی پی نمو کے ساتھ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور یہ امپورٹڈ حکومت ملک کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کو ٹھیک کرنے پر لگی ہوئی ہے۔
عمر ایوب خان نے کہاکہ امپورٹڈ حکومت کی بہترین مثال ایسی ہے جیسے ایک اونچی پہاڑی کی سڑک پر تیز رفتاری سے جاتی بس ریلنگ ٹوٹنے سے المناک حادثے کا شکار ہو جائے۔









