کراچی (کامرس ڈیسک)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ماضی کی جس حکومت نے بھی معیشت کو ترقی دینے کی کوشش کی اس کا نتیجہ ادائیگیوں کے بحران کی صورت میں ہی نکلا
اورمستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا کیونکہ ہماری ترقی کا تمام تر دارومدار برامدات کے بجائے درآمدات پر ہوتا ہے جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جنم لیتا ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بغیر ملکی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ملک میں برامدات اور بچت کے کلچر کو پروان چڑھانا لازمی ہے۔ جب تک بچت کی موجودہ شرح کم از کم دگنی نہیں ہو جاتی اس وقت تک ملکی ترقی مشکل ہے۔
میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگومیں بچت کی شرح 61.4 فیصد، سنگاپور میں 53.8 فیصد، متحدہ عرب امارات میں 47.8 فیصد، چین میں 44.9 فیصد اوربھارت و بنگلہ دیش میں تیس اور اکتیس فیصد کے درمیان رہتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح صرف بارہ فیصد ہے جس میں موجودہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے تیزی سے کمی آرہی ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ 2007-08 میں شرح نمو 4.4 فیصد جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ چودہ ارب ڈالر تھا۔ 2010-11میں امپورٹس کو کم کر کے شرح نمو 3.2 فیصد تک گرا کر کرنٹ اکاؤنٹ کو معمولی سرپلس میں لے جایا گیا۔ 2012-13میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ کو قابو میں کرنے کے لئے شرح نمو کو 3.9 فیصد تک کم کیا گیا۔ 2013 سے 2018 تک صورتحال کچھ بہتر رہی تاہم2017ـ18 میں شرح نمو کو 6.1 فیصد تک پہنچایا گیا جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 19.2 ارب ڈالر ہوگیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی شرح نمو کو 6.1 فیصد تک پہنچا دیا تھا مگراس کے لئے امپورٹس کو 80 ارب ڈالر تک لے جایا گیا جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر ہو گیا جس کے نتیجیمیں شدید ترین مالی بحران آیا جسے اب تک قوم بھگت رہی ہے۔
موجودہ حکومت نے امپورٹس محدود کر کے اورجی ڈی پی کی قربانی دے کر دس ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 3.3 ارب ڈالر تک محدود کر دیا جو کہ گزشتہ سال کے ابتدائی دس ماہ میں 13.7 ارب ڈالر تھا۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ہرسال 27 سے 30 ارب ڈالر پاکستان میں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھجواتے ہیں جو پاکستانی کرنسی کے مطابق اٹھ سے نو ہزار ارب روپے سالانہ بنتے ہیں چونکہ ملک میں بچت کے ذریعے سرمایہ کاری کا کلچر نہیں ہے اس لیے یہ تمام خطیر رقم خرچ کر دی جاتی ہے جو انفلیشن کا باعث بنتی ہے اورسرمایہ کاری کے لیے دستیاب نہیں ہوتی اس طرح جی ڈی پی ترقی نہیں کر پاتا۔
اسی وجہ سیحکومت کو سرمایہ کاری کے لیے غیرملکی قرضے لینا پڑتے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ بچت کے ساتھ ساتھ برآمدات اور بیرونی ترسیلات زر کو مزید فروغ دینا از حد ضروری ہے۔ پاکستان کے حالات کی ایک وجہ متمول طبقات کی بے لگام کھپت ہے جس پر یا تو انھوں نے قابو پانا ہوگا یا حکومت کو ایسے اقدامات کرنا ہونگے جس سے اس پر کنٹرول کیا جا سکے ورنہ صورتحال کبھی بہتر نہیں ہو سکے گی۔









