لاہور(کامرس ڈیسک )پاکستان میں یورو 5 پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں مقامی ریفائنریز ہی رکاوٹ نکلیں،عوام کو گاڑیوں میں معیاری تیل ڈلوانے کیلئے ابھی مزید برسوں انتظار کرنا ہو گا۔
ریفائنریز پالیسی 2023 کے دستاویزات کے مطابق مقامی ریفائنریز یورو فائیو آئل صاف کرنے کے قابل ہی نہیں اور ان کی جلد اپ گریڈیشن بھی ممکن نظر نہیں آتی۔ پاکستانی ریفائنریز صرف یورو 2 آئل صاف کرنے کے قابل ہیں جبکہ ان کی استعداد بھی فی الحال بڑھائی نہیں جا سکتی۔دستاویزات کے مطابق مقامی ریفائنریز کو اپ گریڈ اگر فوری شروع کر دی جائے تو اس میں 3 سے 4 سال لگیں گے اور اس کیلئے 4 ارب ڈالر درکار ہوں گے، یورو 5 اسٹیڈرڈ کی ریفائنری لگانے کیلئے 15 ارب ڈالر چاہئیں۔
دنیا میں اس وقت یورو سکس فیول استعمال ہو رہا ہے جو معیاری اور کم خرچ ہے ، اس کے ماحول پر منفی اثرات بھی نہیں پڑتے۔ملکی ریفائنریز کی استعداد کار نہ ہونے کے باعث مخصوص ضروریات کیلئے یورو فائیو پیٹرول اور ڈیزل باہر سے منگوانا پڑتا ہے جس سے درآمدی بل بڑھ رہا ہے۔ پاکستان 45 فیصد ڈیزل اور 73 فیصد پیٹرول درآمد کرتا ہے۔مقامی ریفانئریز میں یورو فائیو پیٹرول ڈیزل کی تیاری شروع جائے تو درآمدی کرائے کی مد ماہانہ تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی۔ اِسی طرح ڈیزل اور پیٹرول پر یومیہ 23 لاکھ ڈالر سے زیادہ پریمیم کے بھی بچیں گے۔









