واشنگٹن: مائیکروسافٹ نے اپنے اسرائیلی فوج سے معاہدوں کے خلاف احتجاج کرنے والے دو سافٹ ویئر انجینیئرز کو نوکری سے نکال دیا۔ کمپنی نے اس عمل کو "جان بوجھ کر کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالنا” قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ کمپنی کی 50 ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران پیش آیا، جب کینیڈا میں موجود انجینیئر ابتہال ابوسعید نے مائیکروسافٹ اے آئی کے سی ای او مصطفیٰ سلیمان کے خطاب کے دوران احتجاج کیا۔ ابتہال نے لائیو ایونٹ کے دوران اسرائیلی فوج کے ساتھ مائیکروسافٹ کے تعلقات پر نکتہ چینی کی اور فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھائی۔
دوسری طرف، امریکی انجینیئر وانیا اگروال نے بھی احتجاج کیا، جو پہلے ہی کمپنی سے استعفیٰ دے چکی تھیں۔ وانیا نے اپنی ای میل میں مائیکروسافٹ کو "ڈیجیٹل ہتھیاروں کا بنانے والا” اور "نسل کشی کے ساتھی” قرار دیا۔
یہ احتجاج اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انکشاف ہوا تھا کہ مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ کمپنی نے ان الزامات کی تصدیق نہیں کی، مگر کہا کہ ملازمین کو اظہار رائے کی آزادی ہے، بشرطیکہ وہ ادارے کی کاروباری سرگرمیوں میں خلل نہ ڈالیں۔
حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس اقدام کو انتقامی کارروائی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ برطرف شدہ انجینیئرز کو بحال کیا جائے کیونکہ انہوں نے انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔









