واشنگٹن (انٹرنیشنل نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے باعث اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے لیے امریکی صدر کی کھل کر مخالفت کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے تاہم اسرائیل فوجی انخلا سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
عرب ٹی وی کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اسرائیل کا موقف ہے کہ غزہ میں مکمل امن اسی وقت ممکن ہے جب حماس مکمل طور پر غیر مسلح ہو۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل صرف ہتھیار محفوظ رکھنے یا انہیں فلسطینی اتھارٹی یا کسی بین الاقوامی نگرانی والے فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کو کافی نہیں سمجھتا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سے مکمل فوجی انخلا اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک حماس مکمل طور پر ختم ہو کر اپنے تمام ہتھیار نہ ڈال دے۔
رپورٹ میں شامل کیے گیے تجزیے کے مطابق اسرائیل اس موقف کے ذریعے جنگ بندی کے دوران بھی غزہ میں کارروائی کی آزادی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔اسرائیل مستقبل قریب میں سیکیورٹی ضروریات کو بنیاد بنا کر علاقے میں اپنی فوجی موجودگی جاری رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭