امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غزہ میں حماس کے خلاف جاری آپریشن کو جلد از جلد مکمل کرے، چاہے اس دوران انسانی المیے جنم لیں یا بین الاقوامی دباؤ بڑھے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹرمپ نے "کام مکمل کریں” کا نعرہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو حماس کے وجود کا خاتمہ کرنا چاہیے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکا نے غزہ جنگ بندی مذاکرات سے اپنے نمائندگان واپس بلا لیے ہیں۔ امریکی مذاکرات کاروں نے الزام لگایا ہے کہ حماس نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ وہ مذاکرات میں بدنیتی سے کام لے رہی ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان نے سیاسی تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ وہ کچھ ہفتے قبل ہی دعویٰ کر چکے تھے کہ جنگ بندی معاہدہ قریب ہے۔ اب ان کے اس بدلے ہوئے موقف پر حماس نے سخت ردعمل دیا ہے۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ بیانیہ اسرائیل کی جنگی حکمت عملی کو جواز دینے کی کوشش ہے اور غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔
ٹرمپ کے تازہ ترین بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ اب اسرائیل پر کسی قسم کی نرمی یا جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔









