ریاض (انٹرنیشنل نیوز)سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اس رائے کا اظہارکیا ہے کہ عرب دنیا میں شام سے متعلق نیا اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے کہ اس کو الگ تھلگ کرنے کے معاملے پرنظرثانی کی ضرورت ہے .
اور کم سے کم ترکیہ اور اردن سے شامی پناہ گزینوں کی واپسی سمیت انسانی مسائل کو حل کرنے کے لیے دمشق کے ساتھ بات چیت ناگزیر ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نیمیونخ سکیورٹی فورم میں خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ،انھوں نے کہاکہ آپ دیکھیں گے کہ نہ صرف خلیج تعاون کونسل(جی سی سی)میں بلکہ عرب دنیا میں بھی اس بات پراتفاق رائے بڑھ رہا ہے کہ شام سے متعلق جوں کی توں صورت حال قابل عمل نہیں ہے۔سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ سیاسی حل کے لیے زیادہ سے زیادہ اہداف کی طرف جانے کے راستے کے بغیر، ہمسایہ ریاستوں میں شامی پناہ گزینوں اور شہریوں کی مشکلات کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک اورنقطہ نظر تیارکیا جا رہا ہے، خاص طور پر شام اور ترکیہ میں حالیہ تباہ کن زلزلے کے بعداس پرغورکیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دمشق میں حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی مرحلے پر بات چیت کرنا ہوگی جس سے کم سے کم اہم ترین مقاصد حاصل ہوں، خاص طور پر انسانی نقطہ نظر، پناہ گزینوں کی واپسی وغیرہ کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہو۔زلزلے کے بعد اماراتی اور اردنی وزیرخارجہ نے دمشق کا دورہ کیا ۔شہزادہ فیصل سے جب ان خبروں پرتبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا کہ کیا وہ بھی دمشق کے دورے پر جارہے ہیں تو انھوں نے کہا وہ ایسی افواہوں پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
سعودی عرب نے زلزلے سے بچا کی کوششوں کے حصے کے طور پر امدادی سامن سے لدے طیارے شام میں حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں بھیجے ہیں جبکہ ابتدائی طور پر امداد صرف حزب اختلاف کے زیرقبضہ شمال مغربی علاقے میں بھیجی گئی تھی۔شامی صدر بشارالاسد کو حالیہ برسوں میں ان عرب ممالک کی حمایت حاصل رہی ہے جوان کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلائے ہیں خاص طور پر متحدہ عرب امارات جس کا مقصد شام میں عرب اثر و رسوخ حاصل کرنا ہے تاکہ ایران کا مقابلہ کیا جا سکے۔









