قاہرہ(انٹرنیشنل نیوز)عرب اور اسلامی ممالک کے دسیوں رہ نمائوں اورسینئرعہدے داروں نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم)اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی مذمت کی ہے۔
ان مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل اورفلسطینیوں کے درمیان تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔غیرملکی خبررساں ادرے کے مطابق قاہرہ میں منعقدہ اجلاس کی میزبانی عرب لیگ نے کی تھی۔اس میں مصرکے صدرعبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور فلسطینی صدرمحمود عباس کے علاوہ کئی وزرائے خارجہ اورسینئرحکام نے شرکت کی تھی۔
اجلاس میں مقررین نے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں اسرائیل کے یک طرفہ اقدامات کی مذمت کی۔ان میں فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں ،گھروں کی مسماری اور بستیوں کی توسیع شامل ہے۔انھوں نے اسرائیلی حکام کے شہرکے متنازع مقدس مقام (مسجدِ اقصی) کے دورے کی بھی مذمت کی جو یہودیوں اور مسلمانوں دونوں کے لیے مقدس ہے اور اکثراسرائیل، فلسطینی بدامنی کا مرکز رہا ہے۔اسرائیلی حکومت کی جانب سے فوری طور پراس بیان پرکوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔حکام نے مسجدِاقصی کے محافظ کے طورپراردن کے کردار کی حمایت کی جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
مسلمانوں کا پہلا قبل اول مسجدِ اقصی قدیم شہرمیں ایک پہاڑی کی چوٹی پرواقع ہے۔یہ یہودکے لیے سب سے مقدس مقام ہے اور وہ اسے ٹیمپل مائونٹ کہتے ہیں کیونکہ یہ قدیم زمانے میں یہودی معابد کا مقام تھا۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے خبردارکیاکہ اس مقام کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے کسی بھی اسرائیلی اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور کہا کہ ان سے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے مستقبل کے مذاکرات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات دیرینہ تنازع کے دوریاستی حل میں رکاوٹ پیدا کریں گے جس سے فریقین اور پورے مشرقِ اوسط کے پاس مشکل اور سنگین آپشنز ہوں گے۔









