کراچی (کامرس ڈیسک)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے لئے ایک طرف کنواں اور دوسری طرف کھائی کے مترادف ہیں،
وہ پاکستان پراعتماد کرنے کو تیارنہیں ہے جسکی وجہ سے وہ قرضے کی قسط جاری نہیں کررہا۔
اگرآئی ایم ایف کا قرضہ نہیں ملا تو بجٹ بنانا مشکل ہوجائے گا۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا نواں جائزہ اورسٹاف لیول ایگریمنٹ گزشتہ سال ہو جانا چائیے تھا مگر سابقہ دور میں عالمی ادارے کے ساتھ طے شدہ معاہدے کو پامال کیا گیا جسکی وجہ سے نواں جائزہ تعطل کا شکار ہوا اورمعاہدہ نہ ہو سکا۔
عوام کومسلسل بتایا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام نئی شرائط پوری کردی گئی ہیں اورچند دن میں معاہدہ ہوجائے گا مگرمعیشت میں مسلسل تنزلی کی بنا پر آئی ایم ایف اپنی شرائط میں اضافہ اور ڈو مور کا مطالبہ کر کے گول پوسٹ تبدیل کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سیغیرضروری سختی کی وجوہات میں اس ادارے کا یہ خوف بھی شامل ہے کہ قرض ملنے کے بعد پاکستان میں معاملات غیر ذمہ داری سے چلائے جاتے رہیں گے اور اخراجات کنٹرول نہیں کئے جائیں گے جس کے نتیجیمیں ملک دیوالیہ ہوجائیگا اورانکی بدنامی ہوگی۔
میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کو یہ خدشہ بھی ہے کہ الیکشن سے قبل ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے اربوں روپے ضائع کر دئیے جائیں گے جس سے ملک کی لڑکھڑاتی معیشت مزید کمزورہوجائے گی۔ چین، سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے پاکستان کو قرضہ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے اور امپورٹس کی حوصلہ شکنی کی وجہ سے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں گذشتہ آٹھ ماہ میں 68 فیصد کمی آئی ہے اور اگلے چار ماہ میں مزید کمی متوقع ہے مگر اس سے ایف بی آر کے ریونیو میں بھی کمی واقع ہوگی۔
مہنگائی 36 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے جو ایشیاء میں بلند ترین سطح ہے۔ جس کی وجہ سے آئی ایم ایف شرح سود میں دو فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضے کی قسط کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر سے پاکستان کا معاشی عدم استحکام تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے موجود ہ معاہدہ 2019 میں ہوا تھا جو اگلے ماہ ختم ہو رہا ہے۔
معاہدے کے تحت پاکستان کو ساڑھے چھ ارب ڈالر کا قرضہ ملنا تھا مگراب تک صرف 3.9 ارب ڈالر کا قرضہ ملا ہے۔ حکومت نے ایکسچینج ریٹ، ٹیکس ریٹ، توانائی کی قیمت، سبسڈیوں میں کمی اور شرح سود بڑھانے کے بارے میں آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے ہی مان لی ہیں۔ اس سخت ترین معاشی صورتحال میں قوم متحد ہوکرامپورٹ سبسٹیٹوشن اور ناکام سرکاری اداروں کی نجکاری کے ہنگامی پروگرام پرعمل کرلے تو اس گرداب سے نکلا جا سکتا ہے۔









