اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے جمہوریت کا بیج بویا ، پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں کارکنان ، سول سوسائٹی اور صحافیوں نے تکالیف برداشت کیں ، شہید بینظیر بھٹو کی کامیابیوں کا ذکر ایک پریس کانفرنس میں نہیں کیا جاسکتا ۔
بدھ کے روزوزیر مملکت فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا خواتین کی امپاورمنٹ ، خواتین پولیس سٹیشن اور خواتین کو جج بنایا ، شہید بینظیر بھٹو نے اپنی شخصیت کے مختلف پہلو سے نمایاں کارکردگی دکھائی ، تھر کول کا وہ کوئلہ جسے شہید بی بی نے کالا سونا قرارد یا تھا آج وہی کالے سونے کی وجہ سے پاکستان کو بجلی مل رہی ہے ، بینیظیر بھٹو نے بین الاقوامی سطح پر بے شمار ایوارڈ حاصل کئے ، یہ سب کچھ یوں ہی حاصل نہیں ہوا ، بلکہ اس کے پیچھے ان کی انتھک محنت اور جدوجہد شامل ہیں۔
بی بی شہید نے بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی ۔ گزشتہ کئی برسوں میں ڈکٹیٹر شپ نے پاکستان کے تعلقات کو بین الاقوامی سطح پر خراب کرنے کی کوشش کی ، ان تعلقات کو بی بی شہید نے بحال اور مضبوط کیا ، بی بی شہید مزدوروں کے حقوق کیلئے لڑتی رہی ۔
انہوں نے پاکستانی عوام کے حالات کو بہتر بنانے کی جدوجہد جاری رکھا ، وہ ہر سطح پر عوام کے لئے لڑتی اور ان کی آواز بنتی رہیں ، بی بی شہید کا وژن ملک میں چارٹرآف ڈیموکریسی تھا ان کا مقصد اپنے اندرونی معاملات کو بہتر بنانا تھا ، ان کی خواہش تھی کہ ہم ایک دوسرے سے نہیں بلکہ ان سے لڑنا ہے جو ملک میں ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے ، چارٹرآف ڈیموکریسی میں بی بی شہید اور نوازشریف کے درمیان ڈائیلاگ کا آغاز ہوا ،
2007میں میثاق جمہوریت کو حتمی شکل دیکر دونوں لیڈران نے دستخط کئے ، وہ صرف دستخط نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو پیغام تھا کہ آپسمیں سخت اختلافات نہ رکھیں ، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں ، وہ اپنے تمام تر اختلافات کو بھلا کر ملک اور جمہوریت کی بہتری کے لئے ملکر بیٹھیں ،
بیرون ملک جانے سے قبل اپنے معاملات کو بہتر کرنے چاہیے ، آج بھی پاکستان پیپلزپارٹی کا وژن ہے کہ متحد ہوکر دنیا کا مقابلہ کریں ، بی بی شہید انہیں ہمیشہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے بارے میں سوچا ، انہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کی۔









