لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان شوگر ملز ایسوایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس کل( جمعرات) کو منعقد ہوگا۔پنجاب زون کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں آل پاکستان شوگر ملز ایسوایشن کے ممبران شرکت کریں گے ۔
اجلاس میں ملک میں چینی کی گرتی ہوئی قیمتوں اور ملک میں شوگر انڈسٹری کیلئے بحرانی کیفیت کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔ترجمان نے کہا کہ چینی کی پیداواری لاگت 115 روپے فی کلو پر آ چکی ہے کیونکہ حکومت نے گنے کی امدادی قیمت 225 کو روپے فی من سے بڑھا کر 300 روپے فی من کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سیلز ٹیکس اور بینک کے چارجز میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں شوگر انڈسٹری آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی کہ آیا شوگر ملوں میں کرشنگ کو بند کیا جائے یا کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔پاکستان شوگر ملز ایسوایشن نے حکومت کو تجاویز دی تھیں اور یہ امید کی گئی تھی کہ حکومت 10 لاکھ ٹن اضافی چینی کی برآمد کی اجازت دے دی گی جو کہ بعد میں حکومت نے 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا اشارہ بھی دیا تھا اور جب منظوری کا وقت آیا تو اسے کم کرکے ایک لاکھ ٹن کر دیا گیا۔
اس کے باعث چینی کا ایکس مل ریٹ جو کہ پہلے 87-88 پر چل رہا تھا گر کے 80-81 روپے پر آ گیا۔ ایک لاکھ ٹن چینی کی تعداد اتنی کم ہے کہ انٹرنیشنل خریدار وں کی بھی دلچسپی پیدا نہیں ہو رہی اور شوگر ملوں کے اوپر گنے کی ادائیگیوں کا پہاڑ بنتا جا رہا ہے اور شوگر ملیں گنے کی ادائیگیاں کرنے سے قاصر ہیں اور اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ شوگر انڈسٹری وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کرتی ہے کہ شوگر انڈسٹری کو ان گمبھیر مسائل اور دلدل میں مزید پھسنے سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرے کیونکہ اس بحران سے پاکستان کے تمام کسان اور شوگر انڈسٹری شدید متاثر ہوں گے اور ایک ایسی صورتحال پیدا ہو جائے گی جو حکومت کے بس میں نہیں گی۔









