تحریر: کاشف جاوید
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ دریاؤں سے جا کر پوچھا جائے، حضور آپ ہر سال کیوں غصہ کر جاتے ہیں، کیوں اپنی حدود توڑ کر کھیتوں، گلیوں اور بستیوں پر یلغار کر دیتے ہیں۔ دریا بیچارا جواب دیتا ہے کہ بھائی میں تو اپنی پرانی راہ پر بہہ رہا ہوں، قصور تمہارا ہے کہ تم نے میرے راستے میں قبضے کر رکھے ہیں، نالوں پر تعمیرات کر دی ہیں، بند باندھنے کے بجائے فنڈ کھا گئے ہو، اور اب الزام میرے سر ڈال کر امداد مانگتے پھر رہے ہو۔
یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کیا سیلاب کو ڈیم بنا کر روکا جا سکتا ہے۔ جواب سادہ ہے، ہاں کسی حد تک ڈیم مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بڑے ڈیم پانی ذخیرہ کرتے ہیں، بارشوں اور برف باری کے پانی کو روک لیتے ہیں اور یوں اچانک آنے والے ریلا شہروں اور کھیتوں کو بہا نہیں پاتا۔ دنیا بھر میں بڑے ڈیم اسی لیے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ چین نے تھری گورجز ڈیم بنایا، امریکہ نے ہوور ڈیم بنایا، بھارت نے نرمدہ اور بھاکڑا ڈیم بنائے۔ یہ سب ملک سیلاب کو مکمل تو نہیں روکے لیکن بڑے پیمانے پر نقصان کم کر دیا۔
ہمارے ہاں صورتحال الٹی ہے۔ ہر سال برسات آتی ہے، دریا چڑھتے ہیں، بند ٹوٹتے ہیں، ہزاروں گھر بہہ جاتے ہیں، کھیت تباہ ہو جاتے ہیں اور پھر ایک اعلان ہوتا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے عالمی برادری سے اپیل۔ ڈالر آتے ہیں، یورپی یونین امداد دیتی ہے، اقوام متحدہ پیکیج جاری کرتا ہے، امریکہ چند لاکھ ڈالر بھیجتا ہے۔ یہ سب رقوم کہاں جاتی ہیں، اس کا حساب آج تک کوئی نہیں دے سکا۔ کبھی کسی نے یہ سوال پوچھا کہ پچھلے بیس برس میں سیلاب کے نام پر آنے والی اربوں ڈالر کی امداد کہاں لگی۔ اگر اس امداد کا صرف دس فیصد بھی ڈیم بنانے یا ندی نالے صاف کرنے پر خرچ ہوتا تو آج گاؤں گاؤں یہ کہانی نہ دہرائی جاتی کہ پانی گھر بہا لے گیا۔
ہمارے حکمرانوں کے لیے سیلاب ایک آفت نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔ آفت عوام پر آتی ہے اور موقع حکمران کو ملتا ہے۔ امداد آتی ہے، تصویر کھنچتی ہے، ایک پیکیج کا اعلان ہوتا ہے اور پھر سب کچھ فائلوں میں دفن۔ متاثرہ کسان کو زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار کا چیک ملتا ہے جسے کیش کرانے کے لیے بھی سفارش لگانی پڑتی ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے سن کر حکمرانوں کے کان میں بھی جنبش نہیں ہوتی۔
اصل حل کیا ہے۔ حل یہ ہے کہ بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بھی ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔ درخت لگائے جائیں، زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی کی جائے، برساتی نالوں اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو بحال کیا جائے، قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیلاب کے نام پر آنے والی امداد کو لوٹنے کے بجائے عوام پر خرچ کیا جائے۔
یہ سب سننے میں بہت آسان لگتا ہے مگر کرنے میں مشکل ہے۔ اور جب تک حکمران اپنی ترجیحات بدل کر عوامی مفاد کو مقدم نہیں رکھتے، تب تک ہر برسات کے بعد یہی ڈرامہ دہرایا جائے گا: پانی آئے گا، بستیاں ڈوبیں گی، امداد مانگی جائے گی اور متاثرین اپنی قسمت کو کوستے رہیں گے۔









