• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home تبصرہ / تجزیہ

سیلاب کا اصل مسئلہ ڈیموں کی کمی، ماحولیاتی تبدیلی اور حکمرانوں کی بے حسی

News Editor by News Editor
اگست 28, 2025
in تبصرہ / تجزیہ
0 0
0

تحریر: کاشف جاوید
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ دریاؤں سے جا کر پوچھا جائے، حضور آپ ہر سال کیوں غصہ کر جاتے ہیں، کیوں اپنی حدود توڑ کر کھیتوں، گلیوں اور بستیوں پر یلغار کر دیتے ہیں۔ دریا بیچارا جواب دیتا ہے کہ بھائی میں تو اپنی پرانی راہ پر بہہ رہا ہوں، قصور تمہارا ہے کہ تم نے میرے راستے میں قبضے کر رکھے ہیں، نالوں پر تعمیرات کر دی ہیں، بند باندھنے کے بجائے فنڈ کھا گئے ہو، اور اب الزام میرے سر ڈال کر امداد مانگتے پھر رہے ہو۔
یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کیا سیلاب کو ڈیم بنا کر روکا جا سکتا ہے۔ جواب سادہ ہے، ہاں کسی حد تک ڈیم مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بڑے ڈیم پانی ذخیرہ کرتے ہیں، بارشوں اور برف باری کے پانی کو روک لیتے ہیں اور یوں اچانک آنے والے ریلا شہروں اور کھیتوں کو بہا نہیں پاتا۔ دنیا بھر میں بڑے ڈیم اسی لیے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ چین نے تھری گورجز ڈیم بنایا، امریکہ نے ہوور ڈیم بنایا، بھارت نے نرمدہ اور بھاکڑا ڈیم بنائے۔ یہ سب ملک سیلاب کو مکمل تو نہیں روکے لیکن بڑے پیمانے پر نقصان کم کر دیا۔

ہمارے ہاں صورتحال الٹی ہے۔ ہر سال برسات آتی ہے، دریا چڑھتے ہیں، بند ٹوٹتے ہیں، ہزاروں گھر بہہ جاتے ہیں، کھیت تباہ ہو جاتے ہیں اور پھر ایک اعلان ہوتا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے عالمی برادری سے اپیل۔ ڈالر آتے ہیں، یورپی یونین امداد دیتی ہے، اقوام متحدہ پیکیج جاری کرتا ہے، امریکہ چند لاکھ ڈالر بھیجتا ہے۔ یہ سب رقوم کہاں جاتی ہیں، اس کا حساب آج تک کوئی نہیں دے سکا۔ کبھی کسی نے یہ سوال پوچھا کہ پچھلے بیس برس میں سیلاب کے نام پر آنے والی اربوں ڈالر کی امداد کہاں لگی۔ اگر اس امداد کا صرف دس فیصد بھی ڈیم بنانے یا ندی نالے صاف کرنے پر خرچ ہوتا تو آج گاؤں گاؤں یہ کہانی نہ دہرائی جاتی کہ پانی گھر بہا لے گیا۔

ہمارے حکمرانوں کے لیے سیلاب ایک آفت نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔ آفت عوام پر آتی ہے اور موقع حکمران کو ملتا ہے۔ امداد آتی ہے، تصویر کھنچتی ہے، ایک پیکیج کا اعلان ہوتا ہے اور پھر سب کچھ فائلوں میں دفن۔ متاثرہ کسان کو زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار کا چیک ملتا ہے جسے کیش کرانے کے لیے بھی سفارش لگانی پڑتی ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے سن کر حکمرانوں کے کان میں بھی جنبش نہیں ہوتی۔
اصل حل کیا ہے۔ حل یہ ہے کہ بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بھی ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔ درخت لگائے جائیں، زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی کی جائے، برساتی نالوں اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو بحال کیا جائے، قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیلاب کے نام پر آنے والی امداد کو لوٹنے کے بجائے عوام پر خرچ کیا جائے۔

یہ سب سننے میں بہت آسان لگتا ہے مگر کرنے میں مشکل ہے۔ اور جب تک حکمران اپنی ترجیحات بدل کر عوامی مفاد کو مقدم نہیں رکھتے، تب تک ہر برسات کے بعد یہی ڈرامہ دہرایا جائے گا: پانی آئے گا، بستیاں ڈوبیں گی، امداد مانگی جائے گی اور متاثرین اپنی قسمت کو کوستے رہیں گے۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: AidClimateChangeCorruptionDamsFloodsGovernmentNegligencevictims
Previous Post

بھارت میں 55 سالہ خاتون کے ہاں 17 ویں بچے کی پیدائش، 12 زندہ بچوں کی ماں

Next Post

اسپین کی نامور اداکارہ ویرونیکا ایچیگوئی کینسر کے باعث 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

News Editor

News Editor

Next Post

اسپین کی نامور اداکارہ ویرونیکا ایچیگوئی کینسر کے باعث 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5873

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

461
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

278

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading