• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home پاکستان
صدر مملکت

سیاسی میدان میں آج ہر کوئی بدلہ ہی لے رہا ہے، صدر مملکت

News Editor by News Editor
جنوری 12, 2023
in پاکستان
0 0
0

اسلام آبا د(نمائندہ خصوصی )پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی معیشت کے حوالے سے سخت خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے اختلافات نظرانداز کرتے ہوئے بات چیت کا آغاز نہ کیا تو معاشی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں،

ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا ناگزیر ہے ، مقصد کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں۔بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر عارف علوی نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت میں ”ٹال مٹول” سے کام لے رہی ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کے درمیان گذشتہ ایک مہینے کے دوران کسی قسم کی پیغام رسانی نہیں ہوئی ہے جبکہ ان کی جانب سے مذاکرات کی ‘درخواست کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔’صدر عارف علوی نے بتایا کہ عمران خان نے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام پر اس وقت اطمینان کا اظہار کیا تھا جب اْنھوں نے اس بارے میں چیئرمین تحریک انصاف سے مشاورت کی تھی۔

تاہم انہوں نے کہاکہ موجودہ فوجی قیادت اور عمران خان کے درمیان وہ ‘کوئی ڈائیلاگ نہیں کروا رہے۔صدر عارف علوی نے حکومتی اتحاد اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ میری انھیں یہ پیشکش ہے کہ مل کر بیٹھنا چاہیے۔انہوکںنے کہاکہ میں عمران خان کی بات نہیں کر رہا، میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ کم از کم سیاسی جماعتیں ہی آپس میں مذاکرات کر لیں، اس کے بعد پارٹیز کے بڑے لوگ بھی مل سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ عمران خان صاحب اور موجودہ حکومت اور ان کی ٹیمز کے درمیان بات چیت کے حامی ہیں اور اْنھوں نے ہمیشہ کھل کر یہ کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے مذاکرات کے معاملے پر کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت زیادہ ٹال مٹول کر رہی ہے،جب بھی میری گفتگو ہوئی ہے، اْنھوں نے (حکومت) نے حامی تو بھری ہے کہ بات چیت ہونی چاہیے مگر میں رزلٹ نہیں دیکھتا تاہم اس سوال پر کہ کیا خود تحریک انصاف ٹال مٹول نہیں کر رہی، اْنھوں نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی عوام کے سامنے ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ یہ الیکشن کا سال ہے، الیکشن ہونے چاہییں۔

یہ (سیاسی جماعتیں) آپس میں طے کر لیں کہ الیکشن جلد یا بدیر ہوں گے۔ اگر چند مہینوں سے الیکشن کے آگے پیچھے ہونے کا فرق ہے تو وہ بھی بات چیت کے ذریعے طے کر لیں تاکہ معیشت اور لوگوں کے فلاح کے لیے کام ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ عام انتخابات سے پہلے ہونا ضروری ہے۔ صدر عارف علوی نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے درمیان اختلافات سے متعلق بات کرتے ہوئے اس کی بڑی وجہ سوشل میڈیا کو قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو غیرضروری اہمیت دینے کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور یوں دونوں میں اختلافات کی دیگر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ سوشل میڈیا تھا،وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں فیصلہ ساز قوتیں سوشل میڈیا کو صحیح طریقے سے ‘ہینڈل’ نہیں کر پاتیں۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ وہ ان تمام معاملات میں اختلافات کم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی یہ عمل جاری رکھیں گے۔انہوںنے کہاکہ (میں نے) ملاقاتیں کر کے سب کو کہا کہ اختلافات کم کرو، سوشل میڈیا کو جب ہم ان معامالات میں ضرورت سے زائد اہمیت دیں تو خرابی پیدا ہوتی ہے،پاکستان میں یوٹیوب دو سال تک بند رہا، اس کی وجہ یہ تھی کہ رائے بنانے والے لوگ اس کو سنبھال نہیں سکے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ملک میں فیصلہ کرنے والے لوگ سوشل میڈیا کو درست طریقے سے ہینڈل نہیں کر پا رہے۔

میرے خیال میں اْنھیں اس کو بہتر انداز میں ہینڈل کرنا چاہیے۔اس سوال پر کہ عمران خان کی حکومت ختم ہونے میں ان کے اور سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے درمیان تعلقات کا کتنا عمل دخل تھا، صدر عارف علوی نے کہا کہ ایسا ہو گا، یہ تو سب پریس میں موجود ہے، میرے پاس کوئی مخصوص معلومات نہیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ کچھ غلط فہمیاں تھیں۔ جو پبلک میں بھی آ رہی تھیں، میں کوشش کرتا تھا کہ غلط فہمیاں ختم ہوں (یعنی) بیٹھو، بات کرو اور آگے بڑھو،میری بطور صدر پاکستان، آئینی ذمہ داری یہ ہے کہ فیڈریشن کو اکٹھا کروں۔انہوںنے کہاکہ وہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘تعاون اختلاف سے بہتر ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ضروری ہے۔

میں سب کو یہی نصیحت کر رہا ہوں۔ پبلک میں بھی اور پرائیوٹ بھی۔’اس سوال پر کہ کیا عمران خان اور سابق آرمی چیف کے درمیان تنازع کی سب سے بڑی وجہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی ہی تھی، صدر عارف علوی نے کہا کہ وہ کسی ایک مخصوص شخص یا واقعے کی بات نہیں کریں گے لیکن ان کی ثالثی کی کوششیں کامیاب کیوں نہیں ہوئیں اور تمام فریقین میں وہ کون تھے جن کا رویہ لچکدار نہیں تھا، صدر عارف علوی نے کسی کا نام لیے بغیر یہ ضرور کہا کہ تمام فریقین ہی سخت رویے کا اظہار کر رہے تھے اور یہ کہ ان کا مشورہ نہیں مانا گیا۔انہوںنے کہاکہ کون تھا جو لچک نہیں دکھا رہا تھا؟ میں (اْنھیں) یہ کہہ رہا تھا کہ نظرانداز کرو، سوشل میڈیا بھی نظرانداز کرو، معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے،معیشت کے اندر بہتری کے امکانات موجود ہیں، معیشت (کی خرابی) کا الارم بھی غلط ہے۔ میں سب کو یہی بتا رہا کہ اس سمت میں مت جاؤ، تعاون کرو اور کام چلاؤ۔’انہوںنے کہاکہ میری سنی گئی ہوتی تو بہتر ہوتامگر میں فلسفی تو نہیں ہوں کہ میری سنی جائے۔

اس زمانے کے سروے دیکھیں تو ساری قوم ہی یہی کہہ رہی تھی کہ بات چیت کی جائے،مجھے خود بھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ کون زیادہ ریلکٹنٹ تھا،جب میں کہتا ہوں کہ درگزر کرو تو لوگ ایسا کر نہیں پاتے۔ اور یہ سب سے مشکل کام ہے کہ میں اپنی انا کو لے جاؤں کہ میں چھوٹا آدمی صدر پاکستان بن گیا ہوں اور میں اپنی انا کو اتنا اوپر لے جاؤں کہ درگزر نہ کروں اور بدلہ لوں۔ میرے خیال میں یہ نہیں ہونا چاہیے تھامگر یہاں اْنھوں نے کسی فرد واحد کا نام نہیں لیا کہ وہ عمران خان کی بات کر رہے ہیں یا سابق آرمی چیف کی، البتہ اْنھوں نے یہ ضرور کہا کہ سیاسی میدان میں آج ہر کوئی بدلہ ہی لے رہا ہے۔اس سوال پر کہ کیا ان خبروں میں صداقت ہے کہ ان کی جانب سے کروائی گئی ملاقاتوں میں پی ٹی آئی سابق آرمی چیف سے بات چیت کو مزید توسیع دینے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، انھوں نے کہا کہ میں ان باتوں سے واقف نہیں کہ کیا آفرز تھیں مگر میں نے یہی کہا تھا کہ مل بیٹھ کر غلط فہمیاں دور کی جائیں،کوئی بھی پارٹی ہو، اپوزیشن، حکومت یا اسٹیبلشمنٹ میں وہ کردار ادا کرنے کو تیار ہوں کہ لوگ قریب آئیں۔

انہوںنے کہاکہ صدر عارف علوی سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں،وہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد مختلف مواقع پر ان کے لیے نرم گوشے کا اظہار کر چکے ہیں اور پنجاب میں گذشتہ برس ہونے والی سیاسی کشیدگی کے دوران بھی اْنھوں نے عمران خان کے حق میں اقدام کیے۔انہوںنے کہاکہ اسی طرح جب نومبر میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ سامنے آیا تو نہ صرف عمران خان نے کھل کر صدر کے تعاون سے متعلق بات کی بلکہ صدر عارف علوی لاہور میں عمران خان سے نئے آرمی چیف کی سمری سے متعلق مشاورت کے لیے بھی پہنچے،اس وقت یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ صدر عارف علوی آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری پر دستخط کرنے میں تاخیر کریں گے تاہم ایسا نہیں ہوا اور سابق فوجی سربراہ کی ریٹائرمنٹ سے قبل نئے آرمی چیف نامزد کر دیے گئے تھے،اسی بارے میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کا عمران خان سے مشاورت کا فیصلہ درست تھا تو اْنھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی برطانیہ میں سابق وزیر اعظم نوازشریف سے ملاقات کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ آئین اْنھیں اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں۔

اْنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا درست فیصلہ تھا اور اس کی سب سے بڑی وجہ عمران خان کی عوام میں مقبولیت ہے۔ انہوںنے کہاکہ آپ پچھلے کچھ عرصے کے سروے دیکھیں کہ کون پاکستان میں مقبول لیڈر ہے،تو کیا پاکستان کی بڑی مقبول پارٹی سے مشورہ نہ کروں؟ کیا آئین مجھے اس بات سے روکتا ہے؟ میری مرضی ہے میں جس سے بھی مشورہ کروں۔ مشورے برطانیہ جا کر ہو رہے تھے، سو یہ تو بہت جینیوئن مشاورت تھی۔اھوں نے کہا کہ عمران خان نے موجودہ آرمی چیف کے نام پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کو میں نے (نئے آرمی چیف کے نام کی سمری سے متعلق) بتا دیا اور انھوں نے بھی بالکل درست فیصلہ لیا کہ اچھا ہوا،اس کے بعد مجھے حکومت اور ہر طرف سے مبارکباد کے پیغامات ملے کہ میں نے صحیح کام کیا ہے، سو جس کام کے لیے حکومت خود مجھے مبارکباد دے رہی ہے وہ غلط فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے؟۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ کرپشن کے الزامات لگنے کی صورت میں غیر سیاسی، غیر جانبدار اور بااختیار ادارے کے ذریعے تحقیقات ہونی چاہئیںانہوںنے کہاکہ جہاں کرپشن کا الزام لگے وہاں تحقیقات ہونی چاہیے مگر تحقیقاتی اداروں کو سیاسی کر دیا گیا ہے جس بات کا مجھے افسوس ہے۔ اْنھوں نے کہا کہ نیب کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے غیرسیاسی بنانا چاہیے تھے، مگر افسوس ہے کہ سبق نہیں سیکھا گیا۔اس سوال پر کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں، صدر عارف علوی نے کہا کہ میرے خیال میں جہاں بھی کرپشن کا الزام ہو، ایک غیرسیاسی تحقیقات قانون ہے اور ہونا چاہیے لیکن ایک ایسے ادارے کے ذریعے جس کے پاس درکار اختیارات اور طاقت ہو۔انہوںنے کہاکہ ایسا نہیں کہ سیاسی تحقیقات ہوں کہ اربوں روپے کی چوری کو چھوڑ دیا جائے اور کروڑوں اور لاکھوں روپے کی چوری پکڑ لی جائے اور کوئی بیچارہ سائیکل چور جیل بھیج دیا جائے،جب نیب کے بل میں ترامیم آئیں تو میں نے کہا کہ سیکھنا تو یہ چاہیے تھا کہ نیب کو غیر سیاسی بنایا جائے، یہ نہیں کہ اس کے اختیارات ختم کر دیے جائیں یا اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔انہوںنے کہاکہ میری یہ رائے ہے کہ کرپشن کے تمام الزامات کی غیر سیاسی تحقیقات درست اقدام ہے مگر پاکستان فی الحال اس مرحلے تک نہیں پہنچا ہے۔ اب ہر چیز ہی سیاسی کر دی گئی ہے۔انھوں نے ملک میں گذشتہ کچھ عرصے سے جاری آڈیو، ویڈیو لیکس جیسے سکینڈلز سے متعلق بھی بات کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس معاملے پر سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو زبانی کہہ چکے ہیں کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ میں اس معاملے پر پارلیمنٹ میں دو بار تقریر کر چکا ہوں اور میں نے یہی کہا ہے کہ یہ اخلاقیات کے خلاف ہے، اسلام کی رو سے، اور پبلک اقدار کے اعتبار سے بھی ذاتی گفتگو کا باہر نکلنا ناقابل قبول ہے، یہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ دہشت گردی یا بہت مجرمانہ کام کی بات ہو۔ عیبوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے، مگر یہاں ہر گفتگو نکالی جا رہی ہے، ویڈیوز نکالی جا رہی ہیں۔اس سوال پر کہ یہ سب دو سال پہلے، اس وقت جب ان کی پارٹی برسراقتدار تھی، بھی ہو رہا تھاجس پر انھوں نے کہا کہ انھوں نے دو سال پہلے بھی یہی بات کی تھی۔اس سوال پر کہ ان لیکس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے یا اسٹیبلشمنٹ، صدر عارف علوی نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ان لیکس کا ذمہ دار کون ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا ادارہ ضرور قائم ہونا چاہیے جو ان معاملات کی نگرانی کر سکے۔ملکی معاشی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اس مشکل دور میں فی الحال معاشی بقا کیلئے پالیسیاں بنا رہی ہے۔اْنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے، وہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد شروع ہونے والا یہ بحران یوکرین کی جنگ اور پاکستان کی سیاست میں عدم استحکام سے مزید گھمبیر ہوتا چلا گیا جبکہ سیلاب نے معیشت کو بدتر کر دیا۔ انہوںنے کہاکہ جب بھی سیاسی تبدیلی آتی ہے، اور الیکشن کا وقت قریب ہوتا ہے تو کچھ سیاسی عدم استحکام رہتا ہے،میں تو سیاستدانوں کو کہہ رہا ہوں کہ مل کر بیٹھیں اور گفتگو کریں تاکہ معاشی پالیسیز اور الیکشن کی صورتحال واضح ہو سکے۔

انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں فی الحال تو معاشی بقا کیلئے ہیں،آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے راؤنڈز کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔انہوںنے کہاکہ معیشت میں بہتری کیلئے لازم ہے کہ پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت کم ہونا چاہیے اور استحکام کے لیے کچھ معاملات پر اتفاق ہونا چاہیے مگر اتفاق اس لیے نہیں ہوتا کہ عدم اعتماد کی کیفیت ہے اور اس سے نکلنا ضروری ہے۔ جب بات نہیں کریں گے تو عدم اعتماد بڑھے گا۔ میری گذشتہ تین چار ماہ سے یہی کوشش رہی ہے، میں ہر سٹیک ہولڈر کو کہتا ہوں کہ لازمی بات کریں۔

ایسی کون سی صوتحال ہے کہ سیاستدان بات نہ کرسکیں۔ انھوں نے ملک کی معیشت کو ڈوبتی کشتی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کشتی میں پانی آ رہا ہو تو سب کا فرض ہے کہ پانی نکال کر باہر پھینکا جائے،یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی یہ کہہ دے کہ ہم نے تو صرف سواری کے لیے ٹکٹ لیا ہے اور ہم پانی نکالنے کیلئے نہیں ہیں،یہ تمام سٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مشکل سے نکالیں، جمہوریت میں اختلافات رہتے ہیں مگر ڈوبتی ہوئی کشتی سے پانی نکالنا ضروری ہو گیا ہے۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: تحریک انصافحکومتی اتحادسیاسی درجہ حرارتصدر ڈاکٹر عارف علویصدر مملکتمعاشی حالاتملکی معیشت
Previous Post

پی ٹی آئی کو پرویز الہٰی پر حملہ آور نہیں ہونا چاہیے، زلفی بخاری

Next Post

وزیر اعظم کا دورہ ،متحدہ عرب امارات کا 2 ارب ڈالر قرض کی مدت میں توسیع اور اضافی ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان

News Editor

News Editor

Next Post
وزیر اعظم میاں شہباز شریف

وزیر اعظم کا دورہ ،متحدہ عرب امارات کا 2 ارب ڈالر قرض کی مدت میں توسیع اور اضافی ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5877

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading