• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home کرائم اینڈ کورٹس
سپریم کورٹ

سپریم کورٹ، ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کے خلاف کیس کی سماعت19 جون تک ملتوی

News Editor by News Editor
جون 16, 2023
in کرائم اینڈ کورٹس
0 0
0

اسلام آباد(کور ٹ رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ہم 184/3کے خلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کریں گے،

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کے خلاف کیس پر سماعت کی، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بنچ کا حصہ تھے،سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کی کہ مجھے 10منٹ دیں، میں دلائل دینا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ ہم تو آپ کا کیس سن ہی نہیں رہے،

اٹارنی جنرل کے بعد آپ کو سن لیتے ہیں،اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ کسی کیس کا فیصلہ کرتی ہے تو انٹرا کورٹ سمیت دیگر اپیل کے فورمز موجود ہیں، ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جاتا ہے، جب سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3کے تحت کوئی کیس سنتی ہے تو یہ پہلا عدالتی فورم ہوتا ہے، آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور متعین ہیں، قانون ساز عہدِ حاضر کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتے ہیں،

ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184/3کے فیصلے کے خلاف اپیل 5 رکنی بنچ سنے گا،منصور عثمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس 5 رکنی بنچ میں وہ 3 ججز بھی شامل ہوں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہو گا، جسٹس منیب اختر نے گزشتہ روز آبزرویشن دی کہ 184/3کو دیگر کیسز سے الگ کیوں کر دیا، ہائی کورٹ کے کئی فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل اور سپریم کورٹ سے بھی اپیل کا حق ہوتا ہے، آرٹیکل 184/3میں نظرِ ثانی کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے، آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور کو متعین کر دیا گیا ہے،

سیکشن 3 میں کہیں نہیں لکھا کہ 5 رکنی لارجر بنچ میں مرکزی کیس کے بنچ کے ججز شامل نہیں ہوں گے، قانون آج کے تقاضوں کے مطابق بنایا جاتا ہے،اس موقع پر چیف جسٹس کچھ کہنے لگے تو جسٹس اعجازالاحسن نے اٹارنی جنرل کو دلائل جاری رکھنے کا کہہ دیا،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت آرڈر 26تک خود کو محدود نہیں کرتی، آرٹیکل 188نظر ثانی کے دائرہ کار کو محدود نہیں کرتا،

اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں بھارتی سپریم کورٹ کا 2002 کے کیوریٹیو ریویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے بھارتی سپریم کورٹ نے دوسری نظرِ ثانی کی اجازت دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جی بالکل لیکن وہ محدود اختیار کے تحت دی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 188سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کرتا، اس آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو وسیع کر سکتی ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بھارتی سپریم کورٹ کے جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں اس میں نظر ثانی اور اپیل کا فرق برقرار رکھا گیا تھا،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ٹریبونلز اور مسابقتی ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں براہ راست سپریم کورٹ آتی ہیں، سنگین غداری کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی سپریم کورٹ آ سکتی ہے، آرٹیکل 185کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے، سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو توسیع دے سکتی ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے دلائل آپ کی اپنی کہی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں، نظر ثانی تو نظر ثانی ہی رہتی ہے، اسے اپیل کا درجہ تو پھر بھی حاصل نہیں، ان تمام قوانین میں فیصلے کے خلاف اپیل کا ذکر ہے، یہاں اس قانون میں آپ نظر ثانی کو اپیل بنانے کی بات کر رہے ہیں، اپیل اور نظر ثانی میں زیرِ غور معاملہ الگ الگ ہوتا ہے، فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینا الگ چیز ہے،

نظر ثانی کا دائرہ اختیار الگ ہے، سمجھنا چاہتا ہوں آپ کا پوائنٹ کیا ہے،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے سامنے ایک مکمل انصاف کا ٹیسٹ ہے اور بھارتی قانون میں بھی یہی ہے، اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے، ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے، ہم 184/3کے خلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کریں گے، اگر اسے احتیاط کے ساتھ کیا جائے،

سوال یہ ہے کہ نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کے لیے بننے والے لارجر بنچ میں پہلے فیصلہ دینے والے جج بھی شامل ہو سکتے ہیں،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ مزید کتنا وقت لیں گے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگلی سماعت میں دلائل مکمل کرنے کے لیے 45منٹ لوں گا، آئندہ سماعت پر نظر ثانی کے سکوپ پر دلائل دوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جو بنیادی سوال ہے اس پر بھی ہم آگے نہیں بڑھ رہے، اس کے ساتھ ہی عدالت عظمی نے مزید سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: آرڈرز قانونریویو آف ججمنٹسپریم کورٹملتوی
Previous Post

وزیر اعظم کی وفاقی دارالحکومت میں ترقیاتی منصوبے بر وقت مکمل کرنے کی ہدایت

Next Post

حکومت کا قبل از مدت قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر غور

News Editor

News Editor

Next Post
حکومت پاکستان

حکومت کا قبل از مدت قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر غور

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading