خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک )سوڈان میں اپریل 2023 سے خونریز جنگ جاری ہے۔ وہیں انسانی حقوق اور خاص طورپر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف)نے اعلان کیا ہے کہ سوڈانی جنگجوں نے بچوں کی عصمت دری کی ہے۔ ان بچوں میں سے کچھ کی عمر ایک سال سے بھی کم تھی۔ یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنسی تشدد کا مقابلہ کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے جمع کیے گئے اعداد و شمار نے بچوں کے خلاف کیے جانے والے تشدد کے حقیقی دائرہ کار کی صرف ایک جزوی تصویر فراہم کی ہے۔
یونیسیف نے یہ بھی بتایا کہ 2024 کے آغاز سے لے کر اب تک بچوں سے زیادتی کے 221 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریبا دو تہائی لڑکیاں ہیں۔ زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں میں سے پانچ سال سے کم عمر کے 16 بچے اور ایک سال سے کم عمر کے 4 بچے شامل ہیں۔یونیسیف کی ڈائریکٹر جنرل کیتھرین رسل نے کہا کہ یہ حقیقت کہ ایک سال سے کم عمر کے بچوں کی مسلح افراد نے عصمت دری کی ہے۔
یہ سب کے لیے صدمے کی بات ہے۔ اس کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں سوڈانی بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنائے جانے اور دیگر قسم کے جنسی تشدد کا خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ یہ مظالم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔یونیسیف کی رپورٹ میں شاید سب سے خوفناک چیز یہ ہے کہ مسلح افراد اکثر خاندانوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو ان کے حوالے کریں تاکہ ان کے رشتہ داروں کے سامنے ان کی عصمت دری کی جا سکے۔ ریورٹ میں ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں میں سے کسی کا نام نہیں بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ان جنسی جرائم کے متاثرین اکثر شدید جسمانی اور نفسیاتی زخموں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے تاحیات نتائج ہو سکتے ہیں اور زندہ بچ جانے والوں کو ناممکن انتخاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رپورٹ میں دل دہلا دینے والی شہادتیں بیان کی گئی ہیں جو زندہ بچ جانے والوں نے بیان کیں جن کی شناخت ان کی حفاظت کے لیے چھپائی گئی تھی۔ ایک 16 سالہ لڑکی جو بچے کو جنم دینے والی تھی نے بتایا کہ تین افراد نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا جنہوں نے مجھے زبردستی ایک بڑی کار میں بٹھایا اور ریلوے کے ساتھ والی جگہ پر لے گئے۔ انہوں نے میری عصمت دری کی۔ مجھے مارا، ریپ کیا اور ریلوے کے پاس پھینک دیا۔ایک لڑکی نے مزید بتایا کہ جب میں وہاں پہنچی تو میں بری طرح نفسیاتی طور پر زخمی تھی۔ میں ایک گلی میں بیٹھ گئی۔
جب تک میں اپنے آپ کو اکٹھا کر کے گھر میں واپس نہیں آئی تو خودکشی کا سوچتی رہی۔ آج میں نو ماہ کی حاملہ ہوں۔ایک بالغ خاتون جسے مسلح افراد نے 19 دن تک دیگر خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ایک کمرے میں قید رکھا ہوا تھا نے اپنی آنکھوں کے سامنے نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا انکشاف کیا۔ اس خاتون نے کہا کہ رات نو بجے کے بعد کوئی چابک لے کر دروازہ کھولتا۔ لڑکیوں میں سے کسی ایک کو چن کر اسے دوسرے کمرے میں لے جاتا تھا۔ میں اس چھوٹی بچی کے رونے اور چیخ و پکار کی آواز سن سکتی تھی۔
اس نے مزید کہا کہ وہ اس کی عصمت دری کرتے تھے اور ہر بار لے جائی جانے والی بچی خون میں لت پت واپس آتی تھی۔یاد رہے اپریل 2023 سے سوڈان میں عبدالفتاح البرہان کی سربراہی میں سوڈانی فوج اور محمد حمدان دقلو کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ سوڈان دنیا کی سب سے بڑی انسانی تباہی سے دوچار ہے۔ یہ تباہی سینکڑوں علاقوں میں ہے۔ لڑائی میں عام شہریوں اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر لوگوں نے نقل مکانی کر لی ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد کو بھوک اور قحط کا سامنا ہے۔









