سعودی اتحادی افواج

سعودی اتحادی افواج کا یمن کے شہر الحدیدہ میں حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں پر حملہ

ریاض،صنعا(انٹرنیشنل نیوز )سعودی اتحادی افوا ج نے کہا ہے کہ یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ، جس میں حوثیوں سے منسلک فوجی اہداف پر کارروائی کی گئی ہے جبکہ حوثیوں نے ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات پر حملے کو سعودی عرب کی سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا جواب جیسے کو تیسا دیا جائے گا۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی اتحادی افوا ج نے کہا ہے کہ حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا، تمام بندرگاہیں جہاز رانی کے لئے کھلی ہیں۔

سعودی اتحادی افوا ج کا کہنا ہے کہ یمن میں تباہ کیے گئے اہداف کا تعلق بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف خطرات سے نمٹنا تھا۔ حوثیوں کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو جواب دیا جائےگا۔اس سے قبل حوثی میڈیا نے حدیدہ اور یمن کے جزیرے کمران پر سعودی عرب کے حملوں کا دعوی کیا تھا ۔ حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعوی کیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے مغربی یمن کے ساحلی شہر حدیدہ پر فضائی حملے کیے اور یمن کے کمران جزیرے کو بھی نشانہ بنایا۔اس کے علاوہ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعوی کیا تھا کہ سعودی فضائی حملوں میں حدیدہ شہر میں واقع ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ادھریمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد بن سعید الجابر نے کہا ہے کہ حوثیوں نے کمزور بہانوں سے صنعا ہوائی اڈے سے پروازیں روکیں۔ایک بیان میں سعودی سفیر محمد بن سعید الجابر نے کہا کہ خطے میں امن کا قیام نعروں یا سیاسی ٹال مٹول کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ یمن کے مفادات کو مقدم رکھنے سے ہی امن ممکن ہے، تشدد، غلامی اور بیرونی ایجنڈوں کے خاتمے سے ہی امن قائم ہوگا۔

دوسری جانب یمن کے حوثیوں کی وزارتِ خارجہ نے الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات پر حملے کو سعودی عرب کی سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا جواب جیسے کو تیسا دیا جائے گا۔حوثی وزارتِ خارجہ کے مطابق یمن کا محاصرہ ختم کرنے کے جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے سعودی حکومت نے ایک بڑی غلطی کی ہے، جس کی اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔بیان میں یہ بھی دعوی کیا گیا کہ سعودی حملے میں کمران جزیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں