سانحہ در سانحہ تحریر: سدرہ ثاقب
30 جنوری 2023وقت ظہر کا مقام مسجد جگہ پولیس لائنز ایک زوردار دھماکہ اور سو سے زیادہ لوگ جو کسی کا باپ کسی کا بیٹا کسی کا شوہر شوہر تھا تو کسی کا واحد آسرا تھا ایک ہی لمحے میں اپنے خالق حقیقی سے جالےاور پاکستان کی تاریخ میں ایک اور سانحہ درج ہو گیا.
1947 سے لیکر اب تک جتنے بھی بڑے سانحے ہوئے انکا ذکر آج کے کالم میں کرنا چاہوں گی ستمبر گیارہ 1948 دوپہر کا وقت ایک خراب ایمبولینس جسمیں ایک مریض لیٹااپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور انتظار کررہا ہے دوسری ایمبولینس کا جو اسے ہسپتال لے جائے مگر وائے افسوس ایمبولینس تو نہ آئی بیچ سڑک قضا آ گئی اور یہ کوئی عام انسان نہیں.
بلکہ اپنے وقت کا کیا ترین وکیل سیاست دان لیڈر تاریخ اور دنیا کے نقشے کو تبدیل کرنے والا انسان قائد اعظم محمد علی جناح تھے پاکستان کے بانی پہلے گورنر جنرل کی ایمبولینس بیچ سڑک نامعلوم فنی خرابی کی وجہ سے خراب ہو جانا اور اسکا بے بسی کے عالم مر جانا کسی المناک سانحے سے کم نہیں تھا
کون تھا اسکا زمہ دار نامعلوم سولہ دسمبر 1971مشرقی پاکستان جو ھم سے جدا ہو گیا کیوں اور کیسے اسکے لئے کچھ لکھنا شائد بے معنی ہے کیونکہ اسپر سو سے زیادہ کتابیں اور مضامین لکھے جا چکے ہیں اس وقت کے طاقتور شخص نے کہا تھا کہ فکر نہ کرو بحری بیڑے آ رہے ہیں اور ہم ہندوستان کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دیں گے اور باغی بنگالیوں کو کڑی سزا دیں گے مگر ایسا تو نہ ہو سکا الٹا پاکستان کے نوے ہزار سے زائد فوجی ہندوستان کی قید میں چلے گئے مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش معرض وجود میں آگیا.
یہ دن اور رات کسی سانحے سے کم نہ تھے جب آپ کے وجود سے ایک بازو کٹ جائے اور آپ پھر بھی قہقہے لگا رہے ہوں کون تھا اسکا زمہ دار ” نامعلوم” اپریل چار 1979 کا دن پاکستان میں سخت مارشل لاء لگا ہوا ہے سڑکیں سنسان لاگ ڈرے سہمے اپنے گھروں میں قید ہیں فوج ہر جگہ پہرا دے رہی ہے جو گھر سے نکلا سڑک پر نظر آیا اسے گولی مارنے کا آرڈر ہے اچانک خبر آتی ہے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی جرم کہا ایک نامعلوم شخص نے قصوری کو گولی مار دی اور اسکا قتل بھٹو پر ڈال دیا گیا کون تھا وہ جج جس نے کہا تھا پھانسی نہ دینا ہمیں نہیں معلوم کہ گولی بھٹو نے مروائی یا نہیں مگر پھر ایک نامعلوم مقام سے حکم آتا ہے کہ قبر ایک ہے اور مردے دو فیصلہ تم کر لو اور فیصلہ ہو گیا
بھٹو جیسا انسان پاکستان کو مسلم ممالک کا لیڈر بنانا چاہتا تھا مسلم ممالک کا اپنا اسلامی بنک بنانا چاہتا تھا مگر وہ تاریک راہوں میں مارا گیا کون تھا زمہ دار ” نامعلوم” 17 اگست 1988 ایک جہاز جسہیں 4 بریگیڈیئر 2 امریکی سفیر ایک جنرل بمعہ ملک کے صدر سوار تھا کریش کر گی کچھ رپورٹس کے مطابق اسمیں دھماکہ ہوا اور سب کے پرخچے از گئے آج تک اس سانحے کا زمہ دار ” نامعلوم” بے نظیر کی شہادت آج تک نامعلوم سولہ دسمبر 2014 آرمی پبلک سکول پشاور جہاں معصوم بچوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا کئی بچوں کو برہ سے زائد گولیاں ماری گئیں.
یہ وہ سانحہ تھا کس نے طاقتور لوگوں کے دلوں کو بھی چیر کر رکھ دیا مگر اسکا زمہ دار بھی آجتک نامعلوم پچھتر سالوں سے پاکستان نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور مڑتے مڑتے ہم اس گہری کھائی میں جا گرے ہیں جدھر سے نکلنا اب ناممکن نظر آتا ہے لاکھوں جانیں بم بلاسٹ خودکش حملوں فائرنگ اور ٹرین حادثات میں دی جا چکی ہیں مگر جنہوں نے اس ملک کی حفاظت کی زمہ داری لی تھی وہ ہمیں صرف ترانوں اور تسلیوں اور خدا کی مرضی اور حکم کہہ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکے کہتے ہیں .
ہر اندھیری رات کے بعد صبح ہوتی ہے مگر پاکستان کی صبح بہت دور نظر آتی ہے آج ہمارے نوجوان مستقبل سے مایوس اور بوڑھے تھک چکے ہیں نہ جانے اور کتنی لاشیں ہمیں اٹھانی ہیں نہ جانے کتنے اور سانحوں سے ہم نے گزرنا ہے دنیا ترقی کرتے ہوے مریخ پر زندگی تلاش کر رہی ہے ہم آٹے کی قطار میں لگ کر ذلیل ہو رہے ہماری حیثیت دنیا میں بھکاری سے بڑھ کر نہیں فرق اتنا کہ فقیر پھٹنے پرانے کپڑوں میں مانگتا اور ہم پینٹ کوٹ پہن کر اور یہ بات بھی کسی سانحے سے نہیں









